چین آہنی برادر امریکا کیساتھ بہترین تعلقات چاہتے ہیں پی ٹی آئی حکومت مزید 6ماہ رہتی تو پاکستان دیوالیہ ہو جاتا: اسحاق ڈار
ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے، ہمارا ہدف پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنا ہے،مہنگائی کی شرح میں نمایاں حد تک کمی واقع ہو چکی ہے، ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں
ہم افغانستان کے خیرخواہ ہیں، ان کی ترقی و خوشحالی چاہتے ہیں، امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات انتہائی مفید رہی، پاکستان دنیا میں تنازعات کا پر امن حل چاہتا ہے، عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے سرتوڑ کوششیں کیں، نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب
صدر ٹرمپ کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم کریں گے، امریکا ثالثی کرے تو پاکستان بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، ہم اکیلے کچھ نہیں کر سکتے، عالمی امن کے لیے مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا حل ناگزیر ہے،العربیہ کو انٹرویو
نیویارک(آئی این پی)نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، پی ٹی آئی حکومت مزید 6 ماہ رہتی تو ملک ڈیفالٹ کر چکا ہوتا، ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے، ہمارا ہدف پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنا ہے۔نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا سرمایہ ہیں، حکومتی کوششوں کی بدولت معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے، تین سال کی قلیل مدت میں معاشی اشاریوں میں بہتری لائی گئی، جی ڈی پی گروتھ میں نمایاں بہتری آئی ہے، تمام عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری کے معترف ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، پی ٹی آئی حکومت مزید 6 ماہ رہتی تو ملک ڈیفالٹ کر چکا ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد ایک مشکل فیصلہ تھا جو ہم نے ملک کی خاطر کیا تھا، ہم نے ڈیفالٹ کے خطرے کو دفن کر دیا ہے، مہنگائی کی شرح میں نمایاں حد تک کمی واقع ہو چکی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے، ہمارا ہدف پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنا ہے، سفارتی سطح پر بھی اس وقت پاکستان بہت متحرک ہے، علاقائی روابط کو فروغ دیا جا رہا ہے۔نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، دورہ افغانستان کے دوران تمام امور پر بات کی، افغانستان سے کہا کہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے، ہم افغانستان کے خیرخواہ ہیں، ان کی ترقی و خوشحالی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات انتہائی مفید رہی، پاکستان دنیا میں تنازعات کا پر امن حل چاہتا ہے، پاکستان اس ماہ کیلئے سلامتی کونسل کی صدارت کیلئے منتخب ہوا، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان سفارتی سطح پر بھی کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی پاکستان کی بیٹی ہے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے سرتوڑ کوششیں کیں، جوبائیڈن کو عافیہ صدیقی کی معافی کی درخواست بھی کی تھی۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک اور پر امن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، ہم ہر ایک ملک علاقاتی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر یقین رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، پاکستان نے رافیل طیارے گرا کر بھارت کے غرور کو خاک میں ملا دیا، پہلگام واقعہ کی آڑ میں بھارت نے جو اقدامات کئے ہم نے بھی ویسے ہی جواب دیا، بھارت کیخلاف جنگ میں اللہ تعالی نے پاکستان کو فتح سے نوازا۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر ہم نے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود بند کی، وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعہ پر بھارت کو عالمی تحقیقات کی پیشکش کی، ہم نے بھارتی پروپیگنڈے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، بھارت کی بوکھلاہٹ ابھی تک ختم نہیں ہوئی ہے۔
دوسراانٹرولیڈ
واشنگٹن(آئی این پی)نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم چین کے بہت قریب ہیں، ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں، ہم آئرن برادر ہیں، ہم امریکا کے ساتھ بھی بہترین تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔العربیہ ٹی وی کو انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کے پاکستان کے دورے کا خیرمقدم کریں گے، امریکا ثالثی کرے تو پاکستان بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے جبکہ بھارت نے ٹرمپ کی جانب سے تنازع کے حل پر ٹویٹس پر منفی ردعمل دیا ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایک امن پسند قوم ہیں، کسی ملک سے کوئی جارحیت نہیں چاہتے مگر تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، ہم اکیلے کچھ نہیں کر سکتے، مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق چاہتے ہیں تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدارامن ممکن ہو۔انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب، یو اے ای، قطر کے ساتھ تعلقات انتہائی دوستانہ ہیں، ایران اسرائیل تنازع پر سفارتی حل کی بھرپور حمایت کی۔اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی امن کے لیے مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا حل ناگزیر ہے، دو ریاستی حل ہی فلسطین میں امن کا راستہ ہے، مسئلہ کشمیر حل ہوجائے تو خطیمیں بے پناہ معاشی امکانات موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تنازعات کے حل کیلئے اوآئی سی اور اقوام متحدہ کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے، فرانس سعودی عرب کانفرنس کو پاکستان کی مکمل حمایت حاصل ہے، فلسطین کے دو ریاستی حل سے متعلق کانفرنس 28 اور29 جولائی کو نیویارک میں ہوگی، فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھنی چاہئے۔