کرپشن معاشرے کا ناسور

ندیم ملک

کرپشن ایک ایسا ناسور ہے جس نے اس معاشرے کی رگ و پے میں زہر گھول دیا ہے۔ آج اگر کسی عام پاکستانی سے پوچھ لیا جائے کہ ’’کرپشن کہاں نہیں ہے؟‘‘ تو وہ ایک کڑوی مسکراہٹ کے ساتھ کہے گا: کہاں نہیں ہے؟ ہر جگہ ہے۔ یہی وہ جملہ ہے جو ریاست، اداروں اور سماج سب کے لیے آئینہ ہے
کرپشن محض رشوت یا مالی بدعنوانی کا نام نہیں۔ یہ ایک طرزِ فکر ہے، ایک رویہ ہے، جو قانون کو مصلحت کے آگے، حق کو ذاتی فائدے کے آگے اور دیانت کو طاقت کے آگے قربان کر دیتا ہے۔ اس کا آغاز اس لمحے سے ہوتا ہے جب کسی دفتر میں ایک چھوٹا سا کام کرنے کے لیے سفارش ڈھونڈی جاتی ہے یا کسی افسر کے سامنے ’’چائے پانی‘‘ کا لفظ زبان پر آتا ہے۔ پاسپورٹ، شناختی کارڈ، زمین کا انتقال، تھانے کی ایف آئی آر یا ہسپتال میں ایک بیڈ، کوئی کام اس وائرس سے محفوظ نہیں رہا
یہ بیماری صرف سرکاری دفاتر تک محدود نہیں۔ بازار میں دکاندار ناپ تول میں کمی کرتا ہے، دودھ میں پانی ملاتا ہے، دواؤں اور خوراک میں ملاوٹ کرتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں استاد کلاس روم میں اپنا فرض ادا نہیں کرتا تاکہ شام کو ٹیوشن کے نام پر فیس لے کر وہی پڑھا سکے۔ یہ سب بھی اسی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ یہاں تک کہ مذہب کے مقدس منصب بھی اس سے محفوظ نہیں۔ جب منبر و محراب کو ذاتی مفاد کا ہتھیار بنا دیا جاتا ہے اور دین کو اپنے مطلب کے رنگ میں ڈھال دیا جاتا ہے تو یہ بھی کرپشن کی ایک شکل ہے
عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انصاف کے محافظ کہلاتے ہیں، لیکن جب انصاف خرید و فروخت کا کھیل بن جائے تو عام آدمی کے لیے کوئی دروازہ نہیں کھلتا۔ تھانے میں بغیر پیسے کے ایف آئی آر درج نہیں ہوتی اور عدالت میں فیصلے سالہا سال لٹکے رہتے ہیں۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ فیصلہ سفارش اور پیسے کے بغیر نہیں ہوتا تو ان کے دل سے امید کا چراغ بجھنے لگتا ہے
یہ المیہ صرف ہمارا نہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک کرپشن کی اسی دلدل میں پھنسے تھے مگر انہوں نے راستہ نکال لیا۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں قانون سب کے لیے برابر ہے۔ سزا یقینی ہے اور جرم کے بعد کوئی بچ نہیں پاتا۔ سنگاپور، ملائیشیا اور چین جیسے ملکوں نے اداروں کو شفاف اور آزاد بنایا۔ عوامی خدمات کو ڈیجیٹل کیا تاکہ انسان اور کام کے درمیان سے وہ لمحہ ہی ختم ہو گیا جہاں رشوت کا سودا ہوتا تھا
ہمارے ہاں اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 180 ممالک میں 135 ویں نمبر پر آ چکا ہے اور اسکور صرف 27 ہے۔ پچھلے سال یہ 29 تھا۔ سروے میں بتایا گیا کہ ہر تین میں سے ایک شہری نے رشوت دی اور پینتیس فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کرپشن بڑھی ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق ہر سال سات سو ارب روپے رشوت کے طور پر عوام کی جیبوں سے نکال لیے جاتے ہیں۔ یہی نہیں، 2025 کے آغاز میں کوہستان کے مالیاتی اسکینڈل نے پورے نظام کے چہرے سے نقاب نوچ ڈالا جہاں اربوں روپے کے اثاثے قبضے میں لیے گئے۔ یہ وہ پیسہ تھا جو عوامی فلاح پر خرچ ہونا چاہیے تھا
افسوس یہ ہے کہ ہم نے کرپشن کو ’’معمول‘‘ مان لیا ہے۔ جب لوگ یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کر دیتے ہیں کہ کچھ دیے بغیر کام نہیں ہوتا تو دراصل وہ اس برائی کو زندگی کا اصول تسلیم کر لیتے ہیں۔ یہی وہ سوچ ہے جو کسی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جب ایک امیدوار ووٹ خرید کر اسمبلی میں پہنچے گا تو وہ سب سے پہلے اپنی سرمایہ کاری واپس نکالے گا۔ جب کوئی سرمایہ دار رشوت دے کر منصوبہ لے گا تو عوامی مفاد کو پسِ پشت ڈال دے گا۔ اس بددیانتی کا دائرہ صرف پیسوں تک محدود نہیں۔ وقت پر کام نہ کرنا، اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنا، عوامی وسائل کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا یہ سب اسی میں شامل ہے
اس المیے کا علاج صرف قانون یا اداروں کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے پہلے سوچ بدلنی ہوگی۔ تعلیم کے ذریعے نئی نسل کو ایمانداری کا سبق دینا ہوگا۔ اسکول اور کالج میں قانون پسندی، دیانت داری اور انصاف کی اقدار کو نصاب کا حصہ بنانا ہوگا۔ احتساب کے اداروں کو آزاد اور بے خوف ہونا ہوگا۔ سرکاری خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے تاکہ عوام اور افسر کے درمیان سے وہ فاصلہ ہی مٹ جائے جہاں بدعنوانی کا جنم ہوتا ہے۔ میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرنی ہوگی۔ ریٹنگ اور سنسنی کے بجائے اصل مسائل پر روشنی ڈالنا ہوگی
لیکن یہ سب کچھ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہر فرد اپنی ذات کے اندر جھانک کر یہ عزم نہ کر لے کہ اس نے اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں میں ایمانداری سے سمجھوتہ نہیں کرنا۔ کرپشن صرف دوسروں کا مسئلہ نہیں، یہ ہر اس جگہ ہے جہاں ہم نے اپنی آسانی کے لیے قانون توڑا، اصول بیچے یا کسی کو ناجائز فائدہ پہنچایا
آخر میں پھر وہی سوال ہے، کرپشن کہاں نہیں ہے؟ اس کا جواب افسوسناک ہے کہ جہاں قانون کمزور اور ضمیر سویا ہو، وہاں ہر جگہ کرپشن ہے۔ مگر امید کی کرن یہ ہے کہ قومیں جب چاہیں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ اگر ہم اپنی ذات سے شفاف ہو جائیں تو یہ دائرہ پھیلتے پھیلتے معاشرے کو بدل دے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تقدیر قانون کی سختی، قیادت کی سچائی اور عوام کی ایمانداری سے بدلتی ہے۔ ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی جاگ جائے تو باقیوں کو جگانے کی طاقت رکھتا ہے
پاکستان کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگر ہم مان لیں کہ مسئلہ باہر نہیں، اندر ہے اور حل بھی ہمارے اندر ہے تو وہ دن ضرور آئے گا جب آنے والی نسلیں یہ سوال نہ پوچھیں گی کہ کرپشن کہاں نہیں ہے بلکہ یہ کہیں گی کہ کرپشن؟ پاکستان میں؟ اب نہیں