محمد شاہ دوتانی
آزادی اظہار ایک بنیادی انسانی حق ہے ،کسی شخص کو اپنی رائے اور خیالات کو بلا خوف و خطر دوسروں تک پہنچانے کی آزادی ہو۔اظہارِ رائے کی آزادی کو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے آرٹیکل انیس کے تحت باضابطہ طور تسلیم کیا گیا ہے اس آرٹیکل کے مطابق ہر شخص کو کسی قسم کی مداخلت کے بغیر رائے رکھنے کی آزادی ہونی چاہیے اور ہر شخص کو اپنی رائے کے اظہار کا حق ہونا چاہیے ،جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے یہ حق لا محدود اور مطلق نہیں ہے۔ اس حق کو محدود اور مشروط کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس حق کو محدود کرنے والی ان شرائط اور حدود کو بھی عالمی سطح پر طے اور تسلیم کیا جا چکا ہے۔ اس حدود دو قسم کی ہیں۔ پہلی یہ کہ کسی ملک کی قومی سلامتی، امن و امان کے پیش نظر اس حق کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ یہ حدود و قیود دنیا کے جمہوری ممالک کے آئین میں بڑی وضاحت سے شامل ہیں۔
بلاشبہ سوشل میڈیا صحت مند سرگرمیوں کے فروغ اورمثبت اظہار رائے کی آزادی کاموثر ذریعہ ہے۔ تاہم سوشل میڈیا کا غیر ذمے دارانہ اور بے لگام استعمال معاشرے کا ناسور بن چکا ہے اس نے سنگین مسائل بھی پیدا کر دیئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر 9 مئی کے بعد کا دور پاکستانیوں کے لیے کافی پریشان کن ہے۔ نظریہ ہی کسی قوم کی اصل طاقت ہوتی ہے، اگر ہم نے اسے کھو دیا تو ہمیں ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ دشمن ہماری نظریاتی بنیاد جو کہ پاکستان ہے اور ہماری محافظ افواج پاکستان پر کاری ضرب لگانے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔اس مسئلے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی اس سہولت کو جعلی خبروں، پروپیگنڈے، غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور آخر میں سب سے زیادہ چیلنج تب ہوتا ہے جب یہ جعلی خبریں اور غلط معلومات پھیلانے والے لوگ سوشل میڈیا کو کسی قوم کے اتحاد اور سلامتی کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔اس کا بنیادی مقصد ایک ہی ہوتا ہے اور وہ ہے جھوٹ بولنا، جھوٹ پھیلانا اور جھوٹ کے بیانیے کو فروغ دینا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ہدف بھی ایک ہی ہوتا ہے یعنی قومی سلامتی کو نشانہ بنا کر اعلیٰ اداروں کی تضحیک کرنا اور پھر انھیں کمزور کر کے ریاست اور معاشرے کے اندر انتشار پھیلانا۔ جس سے بعض اوقات ریاست کی بنیادیں ہل جاتی ہیں اور پوری قوم افراتفری کا شکار ہو جاتی ہے۔ریاست ، حکومت اور بعض سماجی حلقوں کا بیانیہ یہ ہی ہے کہ اگر ہم نے اس مادر پدر آزادی کو کنٹرول نہ کیا تو یہ معاشرے میں ایک بڑے انتشار اور بے راہ روی کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا اور اس کی وجہ سے ریاست کے نظام کو مختلف نوعیت کے خطرات کا بھی سامنا ہے۔ اس میں ایک بڑا مسئلہ غلط معلومات کے پھیلائو‘ فیک نیوز کی بنیاد پر سماج میں ایک ہیجانی کیفیت کو پیدا کرنا یا مخالفین کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کرنا شامل ہے۔ یہ سب کچھ ایک منفی سوچ اور فکر کو ایک باقاعدہ شعوری یا منظم طور پر بھیلانے کے لیے کیا جاتا ہے اور جب ٹرینڈ بن جاتے ہیں تو عام سوشل میڈیا صارف بھی اس کا حصہ بن جاتا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کے بقول ’’ غلط اور گمراہ کن معلومات ‘‘ کے تیز پھیلائوکو ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا اور کہا کہ جامع قوانین قواعد وضوابط کے بغیر غلط اور گمراہ کن معلومات اور نفرت انگیز بیانات سیاسی و سماجی ڈھانچے کو غیر مستحکم کرتے رہیں گے یا یہ اخلاقی قدروں کی تنزلی کا باعث بنیں گے۔ پاک
فوج کی اسلام آباد میں منعقدہ فارمیشن کمانڈرز کانفرنس نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بے لگام غیر اخلاقی آزادی اظہار رائے کی آڑ میں زہر اگلنے، جھوٹ اور معاشرتی تقسیم کا بیج بونے کے خاتمے کے لیے سخت قوانین بنائے اور عمل درآمد کرائے۔ سیاسی و مالی فوائد کے لیے جعلی خبریں پھیلانے والوں کی نشاندہی کر کے انصاف کے کٹہرے میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت دو روزہ 84 ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاک فوج تعصب اور سیاسی وابستگی کے بغیر قوم کی خدمت کرتی ہے اور وہ اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ملک کی حفاظت کرتی رہے گی۔ ذاتی مفادات کے لیے معصوم شہریوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے اور تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی کوشش کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فورم نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ فیک نیوز ہو یا گمراہ کن خبریں یا ایک منظم حکمت عملی کے تحت کسی کردار یا ریاست وحکومت کے نظام کی تضحیک کرنا یا جھوٹ پر مبنی بیانیہ بنانا یا حقایق کو برے طریقے سے مسخ کرنا اور ایک ایسی رائے عامہ کو بنانا جو ریاست کے نظام کے خلاف ہو کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔مین اسٹریم میڈیا تو غیر ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کررہا البتہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر کسی کا کوئی چیک نہیں ہے ، اس لیے یہاں بے احتیاطی کا عنصر بہت زیادہ ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا اور اس کے بڑھتے ہوئے پھیلا?سے پسماندہ ملک ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی تشویش پائی جارہی ہے۔اسی بنیاد سوشل یا ڈیجیٹل میڈیا کی بے لگام آزادی کو روکنے کے لیے قوانین اور ادارے بنائے جارہے ہیں اور جہاں ایسے ادارے اور قوانین نہیں ہیں، وہاں بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔پاکستانی حکومت نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) 2016 میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس کے تحت ایک نئی اتھارٹی تشکیل دی جائے گی جس کو آن لائن مواد کو بلاک کرنے اور سوشل میڈیا تک رسائی کو روکنے کے علاوہ جعلی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اختیار حاصل ہوگا۔بے لگام آزادی اظہار کے خلاف سخت قانون سازی وقت کی ضرورت ہے۔