محبت رہی نہ برداشت---معاشرے کو کیا ہوگیا

کاشف بٹ
یہ سانحہ جس نے تھانہ ہئیر کی حدود میں ایک ہی گھر کے چارچراغ بجھا دیے، محض ایک خبر نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی زوال کی ایک خوفناک علامت ہے۔ عمران نے اپنی بیوی فوزیہ، معصوم بیٹی زینب، نوعمر بیٹے رضا اور 55 سالہ سسر مرزا کو چھری کے وار سے بے رحمی سے قتل کر دیا۔ یہ خبر پڑھنے یا سننے والا ہر شخص لمحہ بھر کے لیے ساکت ہو جاتا ہے کہ آخر ایک انسان کس حد تک وحشت اور ظلم میں ڈوب سکتا ہے؟ مگر سوال یہیں پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ہمارے معاشرے میں گھریلو ناچاقی اب روز کا معمول بن چکی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائیاں، ضد اور انا کے ٹکراؤ کا نتیجہ اکثر معصوم جانوں کے ضیاع کی صورت میں نکلتا ہے۔ وہ گھر جو سکون اور محبت کا مرکز ہونا چاہیے، وہی خون آلود مناظر کا مسکن بن رہا ہے۔ آخر کیوں؟سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے گفتگو، صبر اور برداشت کی اقدار کھو دی ہیں۔ چھوٹی سی رنجش کو حل کرنے کے بجائے انا کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔ مرد اپنی برتری جتانے کے لیے اور عورت اپنی عزت بچانے کے لیے لڑتی رہتی ہے، مگر درمیان میں جو بچے ہوتے ہیں وہ سب سے زیادہ کچلے جاتے ہیں۔ زینب اور رضا جیسے معصوم بچوں نے آخر کیا قصور کیا تھا کہ انہیں اپنے والد کے ہاتھوں اپنی جان دینی پڑی؟ہماری اکثریت ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کو بیماری ماننے کو تیار ہی نہیں۔ غصہ، ڈپریشن، بے روزگاری اور معاشرتی دباؤ انسان کے اندر جمع ہوتے رہتے ہیں اور ایک دن دھماکے کی صورت میں پھٹ جاتے ہیں مگر افسوس کہ ہم یہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں کہ ذہنی بیماری بھی ایک حقیقت ہے اور اس کا علاج ضروری ہے۔یہ واقعات ہمیں جھنجوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آخر کب تک ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر خاندان اجڑتے دیکھتے رہیں گے؟ کب تک معصوم بچے اپنی ہی ماں یا باپ کے ہاتھوں قتل ہوتے رہیں گے؟ کب تک عورتیں اپنی عزت کی قیمت اپنی جان سے چکاتی رہیں گی؟ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم گھر کے اندر محبت، صبر اور برداشت کے کلچر کو دوبارہ زندہ کریں۔ اختلاف رائے کو بات چیت سے حل کرنا سیکھیں۔ ریاست کو بھی چاہیے کہ گھریلو تشدد اور ذہنی امراض کے حوالے سے آگاہی مہم چلائے، ایسے مراکز قائم کرے جہاں لوگ بروقت مدد لے سکیں۔آج تھانہ ہئیر کے اس گھر سے اٹھنے والی چیخیں ہمیں یہ پیغام دے رہی ہیں کہ اگر ہم نے خود کو اور اپنے رویوں کو نہ بدلا تو کل یہ حادثہ کسی اور گھر کے در و دیوار کو لہو سے نہلا دے گا۔ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو خون کی وراثت دینا چاہتے ہیں یا محبت کی۔ہمارے گھروں میں برداشت کا دامن تنگ اور انا کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ معمولی رنجشیں بڑے سانحات میں ڈھل رہی ہیں۔ بات کرنے، صبر کرنے اور مسئلے کو سلجھانے کے بجائے غصہ اور ضد خون کے دریا بہا دیتی ہے۔ یہ رویے ہمارے خاندانی نظام کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔زینب اور رضا جیسے معصوم بچوں نے آخر کیا خطا کی تھی؟ وہ تو وہ نسل تھے جسے تعلیم، محبت اور تحفظ کی ضرورت تھی مگر ہمارے بگڑے رویوں نے ان کے مستقبل سے زندگی چھین لی۔ یہ سوال ہر والدین کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیا وراثت دے رہے ہیں—محبت یا خون؟