رکشہ ڈرائیو رز کےا احتجاج کا الٹی میٹم

 ظلم برداشت نہیں،مطالبات منظور نہ ہوئے تو ہزاروں رکشہ ڈرائیور ریلی نکالیں گے:مجید غوری

لاہور (خصوصی رپورٹ) عوامی رکشہ یونین کے مرکزی چیئرمین مجید غوری نے کہا ہے کہ رکشہ ڈرائیوروں کا معاشی قتل کسی صورت قبول نہیں۔رکشہ ڈرائیور کا ووٹ وزیر اعظم کے ووٹ کے برابر۔ظلم ،ذلت اور گالی برداشت نہیں۔پہلے چنگ چی رکشہ کیلئے شہر لاہور کی پانچ شاہرائیں ماڈل روڈ قرار دے کر بند کردی گئیں، اب ملتان روڈ کو ہائی وے پٹرولنگ پولیس چنگ چی رکشوں کے لئے بند کرکے ان کا معاشی قتل کررہی ہے۔لاہور کے نزدیکی دیہی علاقوں موہلنوال، چوہنگ و دیگر دیہاتوں کے بے روزگار نوجوان رکشہ چلا کررزق حلال کمانے رہے ہیں۔ہائی وے پٹرولنگ پولیس کے اعلیٰ تعلیمات یافتہ پولیس افسران ان کوہائی پرروک لیتے ہیں۔ان کو گالیاں دیتے ہیں، تھپڑ مارتے ہیں۔سارا، سارا دن ان کا رکشہ بند کرکے ان کا معاشی قتل کرتے ہیں۔ان پر جھوٹے مقدمات درج کرکے ان کو کریمنل بناتے ہیں۔دس، دس سال سے انہیں علاقوں کے رہائشی رکشہ ڈرائیورلاہورمیں رکشہ چلانے آتے ہیں،اب اچانک سے رکشے بند کرکے ان کا رزق چھینا جا رہا ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ رکشہ بند کرنا ہے تو اس کے متبادل روزگار دیا جائے،یاہائی وے پر چلنے کے ایس او پیز بنا دیئے جائیں،جو ان ایس او پیزکی خلاف ورزی کرے اس کے خلاف ضرور کاروائی کریں۔لیکن ظلم ، ذلالت اور گالیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو کل 12بجے ٹھوکر نیاز بیگ سے ہائی پٹرولنگ کے ہیڈ آفس کے سامنے تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی اور دفتر کے سامنے دھرنا بھی دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہا رانہوں نے گزشتہ روز ٹھوکر نیاز چوک میں احتجاجی مظاہرے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ احتجاجی مظاہرے سے میں سینکڑوں رکشہ ڈرائیوروں نے شرکت کی جو ٹریفک کے بھاری بھرکم چالانوں اور ہائی پولیس کی جانب سے تشدد کا نشانے بنائے جانے اور گالی گلوچ کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔احتجاجی مظاہرے دو گھنٹے جاری رہا اس کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔