16 کی روٹی ،40 کا نان تنور مالکان بے لگام
روٹی کی سرکاری قیمت 14روپے ، شاد باغ ،چائنہ سکیم ،ناخدا چوک ،راوی روڈ ،شاہدرہ ،بادامی باغ ،گلبرگ ،فیصل ٹائون ،جوہر ٹائون میں مہنگے داموں فروخت ، مہنگا آٹا خریدکر سستی روٹی کیسے بیچ سکتیہیں :صدر آفتاب گل ، ایک ہفتے میں آلو ،چکن ،کیلا ، سرسوں کا تیل ، ایل پی جی اورگھی مہنگا
لاہور ( کرائم رپورٹر) 16 کی روٹی ،40 کا نان تنور مالکان بے لگام ہو گئیشہر میں متعدد مقامات پر روٹی اور نان مہنگا فروخت ہونے کا انکشاف، متعدد تندوروں پر روٹی اور نان مہنگا فروخت کرنے کا رحجان بن گیا۔ تفصیلات کے مطابق روٹی 16اور نان 20سے 40روپے میں فروخت کرنے کا انکشاف ،روٹی کی سرکاری قیمت 14روپے ہے۔پنجاب حکومت نے سستی روٹی فراہمی کا نعرہ پر عملدرآمد نہیں کرایا جا رہا ہے، ضلعی حکومت 14روپے میں روٹی فروخت نہ کرا سکی،شہر کے متعدد تندوروں پر روٹی مہنگی فروخت ہونے لگی، شاد باغ ،چائنہ سکیم ،ناخدا چوک ،راوی روڈ ،شاہدرہ ،بادامی باغ ،گلبرگ ،فیصل ٹائون ،جوہر ٹائون ،ٹائون شپ ، لبرٹی،صدر بازار ،تاجپورہ ،تاج باغ ،فتح گڑھ ،لال پل ،اسلام پورہ ،راج گڑھ ،گلشن راوی ،ملتان روڈ ،اقبال ٹائون ،کریم بلاک ،ٹھوکر نیاز بیگ ،رائیونڈ روڈ گرین ٹائون ،قائداعظم ایریاز میں کے متعدد علاقوں میں روٹی 16روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن نے شہر لاہور میں 14روپے کی سستی روٹی 20روپے میں فروخت کرنے کا ازخود عندیہ دے دیا، 20کلو آٹے کا تھیلا 18سو روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے، ایل پی جی 3سو روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے ،مہنگی بجلی دی جا رہی ہے۔صدر متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن آفتاب گل کا کہنا ہے کہ مہنگا آٹا خرید کر سستی روٹی کیسے فروخت کریں، روٹی 20روپے میں فروخت کی جائے گی۔گزشتہ ہفتے مہنگائی میں0.07 فیصد کی معمولی شرح کے حساب سے اضافہ ، سالانہ بنیادوں پرمہنگائی کی شرح 3.71 فیصد رہی۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے 18 اشیاء مہنگی اور 11 سستی ہوئیں جبکہ22 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ آلو کی قیمتوں میں1.93فیصد،چکن 3.80فیصد،کیلا 1.99 فیصد، واشنگ سوپ 0.80 فیصد،سرسوں کا تیل 1.07 فیصد، انرجی سیور0.31 فیصد، ایل پی جی 0.28فیصد، سگریٹ 0.26 فیصد اورگھی کی قیمتوں میں0.52 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس دال چنا کی قیمتوں میں1.19فیصد، دال ماش 0.59 فیصد، پیاز3.58 فیصد، ٹماٹر3.10فیصد، انڈے2.14 فیصد، لہسن 1.58 فیصد، آٹا 0.58 فیصد، آگ جلانے والی لکڑی 0.16 فیصد اورچاول کی قیمتوں میں0.75فیصد کمی ہوئی۔ اعدادوشمار کے مطابق اس دوران حساس قیمتوں کے اشاریے کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے تک ماہانہ آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح0.03 فیصد اضافے کے ساتھ3.68فیصد رہی جبکہ 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے کیلئے شرح 0.05 فیصد اضافے کے ساتھ 3.66 فیصد رہی ہے۔ اسی طرح 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والوں کیلئے مہنگائی کی شرح0.07 فیصد اضافے کے ساتھ 3.95 فیصد،اور 29 ہزار 518 روپے سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح0.07 فیصدکمی کے ساتھ 3.65فیصد رہی۔ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح0.08 فیصد کمی کے ساتھ 3.69 فیصد رہی۔