یوکرین سے جنگ بندکروورنہ 100فیصدٹیرف عائد کردیاجائیگا:ٹرمپ روس کو 50روز کا الٹی میٹم دیدیا

صدر پیوٹن کے طرز عمل سے مایوس ہوں لیکن ناامید نہیں ، امریکا نیٹو کو یوکرین کی حمایت میں جدید اسلحہ فراہم کرے گا ، ادائیگی یورپ کریگا
 اسرائیل حماس مذاکرات درست سمت میں جانے کی امید ہے، امریکی صدر کی صحافیوں سے گفتگو، غزہ جنگ بندی معاہدے کی بات ٹال دی
واشنگٹن (آئی این پی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اگلے 50دنوں میں یوکرین کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق نہ کیا تو روس پر سیکنڈری ٹیرف کے تحت 100فیصد محصول عائد کر دیا جائے گا۔ غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق وائٹ ہائوس میں نیٹو چیف مارک روٹے سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، اگر 50دنوں میں کوئی معاہدہ نہ ہوا تو معاملہ بہت سادہ ہے، ہم 100فیصد ٹیرف لگا دیں گے اور یہی طریقہ ہو گا۔صدر ٹرمپ نے یوکرین پر روسی حملوں اور مسلسل بمباری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں صدر پیوٹن سے بہت مایوس ہوں۔ مجھے لگا تھا وہ اپنی باتوں کا مطلب سمجھتے ہیں، وہ بہت خوبصورت انداز میں بات کرتے ہیں، پھر رات کو شہریوں پر بم گراتے ہیں، مجھے یہ رویہ بالکل پسند نہیں، صدر پیوٹن سے مایوس ہوں لیکن ناامید نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکا نیٹو کو یوکرین کی حمایت میں جدید اسلحہ فراہم کرے گا، جن میں پیٹریاٹ میزائل سسٹمز بھی شامل ہیں۔اس موقع پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے بھی ٹرمپ کے ہمراہ موجود تھے۔امریکی صدر نے یوکرین کیلئے مشروط دفاعی پیکیج کا اعلان کر تے ہوئے کہا کہ یوکرین کو ہتھیار ہم دیں گے، ادائیگی یورپ کرے گا۔غزہ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر غزہ جنگ بندی معاہدے کی بات ایک ہفتے کے لیے ٹال دی۔ امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل حماس مذاکرات درست سمت میں جانے کی امید ہے۔ٹرمپ کا گفتگو میں کہنا تھا کہ ایک ہفتے میں غزہ جنگ بندی معاہدے کی امید ہے۔