حیدر آباد:شاعر آکاش انصاری کے قاتل کوسزائے موت کاحکم

منہ بولے بیٹے لطیف آکاش نے گھر کو آگ لگا کر انقلابی شاعر کوزندہ جلایا تھا
عدالت میں قتل کا اعتراف کیا، ایس ایس پی نے سزائے موت کی سفارش کی
حیدر آباد (خصوصی رپورٹ)سندھ کے معروف ترقی پسند و انقلابی شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کے بہیمانہ قتل کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے مقتول شاعر کے منہ بولے بیٹے لطیف آکاش کو سزائے موت سنادی۔ ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ و فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے تصور راجپوت نے مقتول آکاش انصاری کے منہ بولے بیٹے لطیف آکاش کو سزائے موت سنائی ، مجرم لطیف آکاش پر 15فروری 2025ء  کو اپنے والد کو گھر کے کمرے میں آگ لگاکر بہیمانہ قتل کرنے کا الزام تھا، تفتیش کے دوران ملزم نے عدالت کے سامنے قتل کا اعتراف کیا، جس پر ایس ایس پی نے سزائے موت کی سفارش کی تھی، جرم ثابت ہوجانے پر اسے سزائے موت سنائی گئی ہے۔ قتل کے اس واقعہ کا مقدمہ مقتول ڈاکٹر آکاش انصاری کے عزیز کی مدعیت میں قاسم آباد تھانے میں درج کیاگیاتھا۔ آکاش انصاری کے قتل کے خلاف اس وقت سندھ بھر کے ادیبوں، دانشوروں اور شعرا نے شدید احتجاج کیا تھا ، ڈاکٹر آکاش انصاری کا شمار سندھ کے ترقی پسند شاعروں میں ہوتا تھا۔