بسنت پر میڈیکل اور ایمرجنسی سہولیات یقینی بنانے کی ہدایت

لاہور (خصوصی رپورٹ) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک محمد اویس خالد نے بسنت منانے کے قانون کے خلاف دائر درخواستوں پر گزشتہ سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز اور دیگر متعلقہ افسروں کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سپیشل سیکرٹری سکول ایجوکیشن، سپیشل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ڈی جی پی آر کو بھی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔عدالت نے سپیشل سیکرٹری ہوم کو ہدایت کی کہ وہ بسنت کے حوالے سے تمام متعلقہ افسروں اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ میٹنگ کریں اور حفاظتی اقدامات پر مشاورت کے بعد تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے بسنت کے موقع پر قائم کیے جانے والے میڈیکل کیمپوں میں مناسب طبی عملے کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی اورمخصوص علاقوں میں بسنت کا تہوار منانے کے معاملے پر سپیشل سیکرٹری ہوم سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ سماعت کے دوران سپیشل سیکرٹری ہوم نے بسنت کے موقع پر کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ایس پی سٹی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت کے لیے دس لاکھ اینٹینا راڈ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ بسنت کے موقع پر ڈبل ون ڈبل ٹو کے تحت 70 موبائل آن کلینک کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ جن علاقوں میں موبائل کلینکس فراہم کیے جائیں وہاں متبادل صحت سہولیات بھی یقینی بنائی جائیں۔