لاہور ہائیکورٹ نے گلوکار علی ظفر کے ہتک عزت کے دعویٰ پر فیصلہ 30 دن کے اندر دینے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو درست قرار دیا جس میں میشا شفیع کو کیس کے حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روکا گیا تھا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ اظہار رائے کے معاملات میں عدالت بڑی احتیاط برتتی ہے۔ فیصلے کے مطابق، جب کوئی شخص اچھی شہرت کا حامل ہو اور دعویٰ کرے کہ اس پر جھوٹے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور انہیں بار بار پھیلایا جا رہا ہے، تو عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روک سکتی ہے۔میشا شفیع کے وکیل کا مؤقف تھا کہ ہتک عزت کے معاملے پر حکم امتناعی نہیں دیا جا سکتا، تاہم ٹرائل کورٹ نے میشا شفیع کو بیان دینے سے روک دیا تھا۔ اداکارہ نے اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس پر ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور کیس کا فیصلہ 30 دن میں کرنے کا حکم دیا۔