میشا شفیع کا علی ظفر ہتکِ عزت کیس میں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

میشا شفیع کا علی ظفر ہتکِ عزت کیس میں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

گلوکارہ اور اداکارہ میشا شفیع نے اپنے خلاف ہتکِ عزت کے کیس میں آنے والے عدالتی فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

 انہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے اپیل دائر کی ہے جس میں ٹرائل کورٹ کے 31 مارچ 2026 کے فیصلے اور 50 لاکھ روپے جرمانے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے کیس کے حقائق اور قانونی پہلوؤں کو درست انداز میں نہیں دیکھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جنسی ہراسانی سے متعلق الزامات کے حتمی فیصلے سے قبل ہتکِ عزت کے دعوے پر فیصلہ سنانا درست نہیں تھا۔میشا شفیع کی جانب سے یہ بھی نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ کسی غیر ثابت شدہ الزام کو خود بخود جھوٹا قرار نہیں دیا جا سکتا، اور ہراسانی کے کیسز میں متاثرہ فریق کا بیان اگر قابلِ اعتبار ہو تو اسے اہمیت دی جاتی ہے۔

اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد کا درست تجزیہ نہیں کیا اور بعض نتائج مفروضوں کی بنیاد پر اخذ کیے گئے۔ درخواست کے مطابق فریقین کے درمیان پیشہ ورانہ تعلقات کو ہراسانی کے الزامات کی نفی کے طور پر لینا بھی قانونی طور پر درست نہیں۔درخواست میں لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ کیس کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ کرے گا۔