لاہور ہائیکورٹ میں گلوکار علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت دعوے کی سماعت کے دوران اہم فیصلہ سنایا گیا ہے۔
عدالت نے میشا شفیع کی اپیل پر سیشن کورٹ کے 50 لاکھ روپے ہرجانے کے فیصلے کو مشروط طور پر معطل کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اپیل کے حتمی فیصلے تک جرمانے کی رقم فوری طور پر نافذ نہیں ہوگی، مگر میشا شفیع کو جرمانے کی نصف رقم عدالت میں جمع کروانا ہوگی اور باقی رقم کے لیے شیورٹی فراہم کرنا لازم ہوگا۔ سماعت کے دوران عدالت نے میشا شفیع کی جانب سے مکمل ٹرائل کورٹ فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کی اور واضح کیا کہ جنسی ہراسانی کے الزامات پر دوبارہ کوئی پابندی نہیں اٹھائی جائے گی۔ میشا شفیع کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سیشن کورٹ نے حقائق کا صحیح جائزہ نہیں لیا، اور اگر الزامات ثابت نہ ہوں تو علی ظفر خود کو مکمل طور پر بری الذمہ ثابت نہیں کر سکتے۔
وکیل نے یہ بھی کہا کہ میشا شفیع نے صوبائی محتسب سے رجوع کیا تھا اور اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل زیر التوا ہے، اس لیے حتمی فیصلے سے قبل ہتکِ عزت دعوے کو مکمل طور پر منظور نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ عدالت نے علی ظفر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے اور کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی۔ یاد رہے کہ سیشن کورٹ نے علی ظفر کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد یہ مقدمہ شوبز انڈسٹری کے اہم قانونی تنازعات میں شامل ہو چکا ہے۔