کم سے کم اجرت پر عملدرآمد نہ ہونے سے ورکرز پریشان

اکثر ورکرز کو ماہانہ 32 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جارہی ہے:لیبر رہنما
لاہور(خصوصی رپورٹ) محکمہ لیبر کی سستی سے ورکرز متاثر ہونے لگے ،کم سے کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد نہ ہونے سے ورکرز پریشان  ہیں۔ نوٹیفکیشن جاری ہوئے دو ماہ ہوگئے مگر ورکرز کو قانون کے مطابق تنخواہیں نہ ملیں۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ لیبر کی مبینہ غفلت سے ورکرز کااستحصال ہونے لگا ہے۔ کم سے کم اجرت 37 ہزار روپے کا قانون پاس ہونے کے باوجود ورکرز قانون کے مطابق تنخواہیں حاصل نہیں کر پا رہے۔حکومت کی جانب سے کم سے کم تنخواہ 37 ہزار کی گئی۔ لیبر رہنمائوں کا کہنا ہے کہ پچاس فیصد  انڈسٹری میں کم سے کم اْجرت کے قانون  پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔محکمہ لیبر کی مبینہ غفلت کی وجہ سے ورکر 37 ہزار تنخواہ سے محروم ہیں ،اکثر  ورکرز کو ماہانہ 32 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جارہی ہے۔ محکمہ لیبر کے حکام کا کہنا ہے کہ شکایات پر ایکشن لے رہے ہیں۔ لیبر انسپکٹر فیکٹریوں میں جا کر کم سے کم تنخواہوں کو یقینی بنا رہے ہیں۔