رابطہ کمیٹی کا اجلاس ،بروقت مشاورت اور وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر حکومت سے تحفظات برقرار

بلاول بھٹو سیاسی اتفاق رائے کی تجویز 
چیئرمین پی پی نے کمیٹی ارکان کو سیاسی جماعتوں سے رابطوں کی ہدایت کردی سفارشات پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں گی،چیئرمین پیپلز پارٹی سے کے پی، گلگت بلتستان کے گورنرز کی ملاقات، بریفنگ دی گئی 
کراچی (خصوصی رپورٹ) پیپلز پارٹی کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت بلاول ہائوس میں ہوا،موجودہ سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اراکین نے سینٹرل پنجاب، جنوبی پنجاب، بلوچستان اور سندھ سمیت وفاقی سطح پر سیاسی، پالیسی اور ترقیاتی چیلنجز سے متعلق اپنے جاری اور حل طلب مسائل پر بات چیت کی۔ پالیسی معاملات جیسا کہ سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی، پانی کے انتظام کے تنازعات، زراعت اور ڈیجیٹل معیشت کو درپیش چیلنجز اور عوامی مفاد کی قانون سازی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وفاقی حکومت سے متعلق تحفظات کے حوالے سے سیاسی، پالیسی اور قانون سازی کے معاملات پر بروقت مشاورت کی کمی اور وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی، جنہیں حل کرنا ضروری ہے۔ اجلاس کے شرکا نے ملک میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات اور زمینی حقائق کے نتیجے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئے اتفاق رائے کی عدم موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ پی پی پی چیئرمین نے کمیٹی اراکین کو ہدایت کی کہ وہ سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ وہ کون سے معاملات ہیں جن پر سیاسی اتفاق رائے قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کی سفارشات رواں ماہ کے آخر میں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں گی۔دوسری جانب بلاول بھٹو سے خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی اورگلگت بلتستان کے گورنر سید مہدی شاہ نے زرداری ہائوس میں ملاقات کی۔ گورنرز نے بریفنگ دی۔ بلاول بھٹو زرداری سے سینیٹر فیصل واوڈا نے بھی زرداری ہائوس میں ملاقات کی جس میں سیاسی صورتحال سمیت ملک میں نفرت اور تقسیم کی سیاست سے پیدا ہونے والے بحران سے متعلق بات چیت ہوئی۔سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی بلاول سے ملاقات کی۔