4سال ، سولر پینل میں 70ارب کا گھپلا

دوکمپنیوں نے 2018سے 2022کے دوران 106ارب ریمٹ کئے، ایف آئی اے کو تحقیقات کرنی چاہئے:ذیلی کمیٹی 
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) 2018 سے 2022 تک سولر پینل درآمدکی آڑ میں 70 ارب روپے کی اوورانوائسنگ کا انکشاف ہوا ہے، ممبر ایف بی آر کسٹمز پالیسی واجد علی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کی ذیلی کمیٹی میں سولر پینل درآمد کی آڑ میں اوورانوائسنگ پر بریفنگ کے دوران بتایا کہ برائٹ سٹار اور مون لائٹ نے سولر پینل کی درآمد کیلئے 106 ارب ریمٹ کیے، برائٹ سٹار اور مون لائٹ کے 3 افراد کو گرفتار کیا جو اب ضمانت پر ہیں، کمیٹی ارکان نے کہا کہ یہ معاملہ منی لانڈرنگ کا ہے، ایف آئی اے کو تحقیقات کرنی چاہئے۔ کنوینر کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ دونوں کمپنیاں جب اوورانوائسنگ کر چکی تھیں تب مشکوک ٹرانزکشنز رپورٹ ہوئیں، مرکزی بینک، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، کمرشل بینک اور ایف بی آر سو رہے تھے۔ کمیٹی نے سولرپینل درآمد کی آڑ میں اوورانوائسنگ کی تفصیلات مرکزی بینک اور کمرشل بینکوں سے طلب کر لی۔ واجد علی ممبر کسٹم پالیسی ایف بی آر نے بتایا کہ دونوں کمپنیوں کیخلاف کسٹم کورٹ میں کیس چل رہا ہے، ذیلی کمیٹی نے آئندہ دس دنوں میں مرکزی بینک سے تمام ریکارڈ اور دیگر بینکوں کو طلب کر لیا۔