مذاکرات سے گریز غیر جمہوری رویہ‘ قومی یکجہتی کی فضا ء کو بھی نقصان پہنچتا ہے شہبازشریف

 سیاسی جماعتوں کے آپس میں رابطے اور مذاکرات جمہوریت کی روح ہیں، ان رابطوں سے ملک اور قوم کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد ملتی ہے،:عرفان صدیقی سے ملاقات میں گفتگو
شرح سود میں کمی سے  سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا‘بس چلے تو ٹیکس کی شرح 15فیصد کم کردوں مگر آئی ایم ایف کی وجہ سے مجبوری ہے‘جب تک بجلی کے نرخ کم نہیں ہوں گے، ہم ترقی نہیں کرسکتے ‘جلد بجلی سستی ہوگی: تقریب سے خطاب

اسلام آباد(ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے  مذاکرات سے گریز غیر جمہوری رویہ ہے جس سے کشیدگی کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور قومی یکجہتی کی فضا کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور پی ٹی آئی سے مذاکرات کرنے والی سرکاری کمیٹی کے ترجمان سنیٹر عرفان صدیقی  سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی ‘سینیٹر عرفان صدیقی نے وزیر اعظم کو پی ٹی آئی کمیٹی سے مذاکرات کی تفصیل سے آگاہ کیا۔وزیر اعظم  نے کہا ہے  سیاسی جماعتوں کے آپس میں رابطے اور مذاکرات جمہوریت کی روح ہیں، ان رابطوں سے ملک اور قوم کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد ملتی ہے، مذاکرات سے گریز غیر جمہوری رویہ ہے جس سے کشیدگی کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور قومی یکجہتی کی فضا کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کو ہنگاموں، محاذ رائی اور تصادم کی نہیں، مفاہمت اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے تا کہ قومی معیشت کی تعمیر اور دہشت گردی کے خاتمے جیسے مسائل کے بارے میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ملک ترقی کر رہا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کے وقار میں اضافہ ہو رہا ہے، ہم کسی کو اس امر کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ غیر جمہوری رویوں سے تعمیر و ترقی کے اس عمل کی راہ میں رکاوٹ ڈالے۔دریں اثنائوزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاکستانی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اورسرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ایک بیان میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پالیسی ریٹ کا 12 فیصد پر آنا ملکی معیشت کے لئے خوش آئند ہے‘ پالیسی ریٹ میں کمی سے پاکستانی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا‘ پالیسی ریٹ میں کمی سے ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کم افراط زر کی شرح کی بدولت پالیسی ریٹ میں کمی آئی ہے‘پر امید ہوں آئندہ مہینوں میں افراط زر میں مزید کمی ہو گی‘معیشت کی بحالی کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششیں لائق تحسین ہیں‘علاوہ ازیں  شہباز شریف نے کہا  بس چلے تو ٹیکس کی شرح15 فیصد کم کردوں مگر آئی ایم ایف کی وجہ سے مجبوری ہے۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا  ملک میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 5 فیصد سے کم ہے، بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے شبانہ روز محنت کررہے ہیں، اگلے چند ماہ میں بجلی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی، اگر بس چلے تو ٹیکس کی شرح 15 فیصد کم کردوں مگر آئی ایم ایف کی وجہ سے مجبوری ہے، مجھے یقین ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا۔شہباز شریف کہتے ہیں کہ ہم سب مل کر پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کاوشیں کررہے ہیں، یہ محنت رنگ لارہی ہے، اس وقت مہنگائی بڑھنے کی شرح 5 فیصد سے کم ہے