جادو ٹونے سے نہیں ملک محنت سے ترقی کرے گا، قوم میں یکجہتی کی فضا قائم ہونے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا،فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے علما ء کردار ادا کریں:وزیراعظم

فرقہ واریت کا خاتمہ ہونا چاہیے  شہبازشریف
 افواج کی قربانیوں کا مذاق اڑائیں گے تو کون پاکستان کی عزت کرے گا،، اب بھی کچھ علماء  ایسے ہیں جو فرقہ واریت پر بات کرتے ہیں،بھارت کیخلاف جیت کو دوست ممالک اپنی فتح سمجھتے ہیں
معاشی ترقی کیلئے کوششیں اور دہشت گردی ساتھ نہیں چل سکتے‘ زہر آلود پروپیگنڈا کیا جائے تو اسے مسترد کرنا صرف ہماری نہیں سب کی ذمہ داری ہے:وزیراعظم  کا علما ء کنونشن سے خطاب
اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم شہباز شریف نے کہاہے  قوم میں یکجہتی کی فضا قائم ہونے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا، افواج کی قربانیوں کا مذاق اڑائیں گے تو کون پاکستان کی عزت کرے گا،  جادو ٹونے سے نہیں ملک محنت سے ترقی کرے گا،فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے علما کردار ادا کریں۔یہ بات انھوں نے اسلام آباد میں قومی علما کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں علما اور قوم کی دعاں سے پاکستان کو اہم کامیابی ملی، مسلح افواج کی جرات سے بھارت کو شرم ناک شکست ہوئی، عاصم منیر کی قیادت میں فوج نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو معاشی ترقی کی طرف لے جانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں مگر دہشت گردی اور یہ کوششیں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، اس ملک کو ترقی دینے کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کا خاتمہ ضروری ہے اس کے لیے علما اپنا کردار ادا کریں، اب بھی کچھ علما ایسے ہیں جو فرقہ واریت پر بات کرتے ہیں، فرقہ پرستی کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان سے لوگ یہاں آکر دہشت گردی کرتے ہیں اور ہمارے لوگ شہید ہورہے ہیں، بلوچستان اور کے پی میں بے گناہ لوگ خوارج کا نشانہ بن رہے ہیں، یہی صورتحال رہی تو ملک کیسے ترقی کرے گا؟ نہ جادو ٹونے سے اور نہ کسی اور طریقے سے صرف شب و روز محنت سے ملک ترقی کرے گا، پوری قوم کو قومی معاملات پر یکجا ہونا ہوگا۔ان کا کہنا تھاکہ دشمن حیران اور دوست خوش ہیں کہ پاکستان نے نہ صرف دشمن کے خلاف معرکہ جیتا بلکہ دوست ممالک اسے اپنی فتح سمجھتے ہیں اور ہمیں مبارک باد دیتے ہیں مگر یہاں اگر زہر آلود پروپیگنڈا کیا جائے تو اسے مسترد کرنا صرف ہماری نہیں سب کی ذمہ داری ہے۔