ہم ابھی بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں: ترجمان افغان طالبان

 ہم اپنے پڑوسیوں اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے اور مثبت تعلقات چاہتے ہیں ، ہم نے صرف اپنے دفاع کا جائز حق استعمال کیا اور کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا
 کابل  (آئی این پی )طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے جب بھی افغانستان پر حملہ ہوا تو افغان حکومت نے ہمیشہ بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار حملے دہرائے گئے، ہم نے صرف اپنے دفاع کا جائز حق استعمال کیا اور کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا۔جمعے کو کابل میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم اب بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں، ہم اپنے پڑوسیوں اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے اور مثبت تعلقات چاہتے ہیں،ہم ہمسائیوں اور عالمی برادری کو بارہا یقین دلاتے رہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ہم اب بھی اس عزم پر قائم ہیں، ہماری خارجہ پالیسی باہمی احترام پر مبنی ہے، اور ہم کسی کے ساتھ نقصان یا دشمنی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا  کہ پاکستان کے اندرونی تنازع سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اوریہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ان کے بقول تقریبا 20 برس سے پاکستان میں ٹی ٹی پی اور اور پاکستانی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے