امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے درآمد ہونے والی تمام مصنوعات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جو 4 مارچ سے نافذ العمل ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی، انہوں نے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر بھی 25 فیصد ٹیرف لگانے کا فیصلہ کیا ہے، جو پہلے مؤخر کیا گیا تھا۔امریکی حکومت کے اس اقدام پر چین نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ چینی وزارتِ تجارت نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین امریکی ٹیرف کی مخالفت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ امریکہ اس غلطی سے گریز کرے گا۔ وزارت نے مزید کہا کہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہی بہتر راستہ ہے۔یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان معاشی کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے ٹیرف سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کا اثر عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔کینیڈا اور میکسیکو نے بھی امریکی ٹیرف کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس اقدام کا مضبوط جواب دے گا۔
میکسیکو کے حکام نے بھی جوابی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ماہرین کے مطابق، ان نئے ٹیرف سے امریکی صارفین کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ درآمدی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ سابق ماہرِ معاشیات اسٹیفن روچ نے خبردار کیا ہے کہ اس تجارتی جنگ کی شدت سے امریکی صارفین پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔امریکی حکومت کے اس اعلان کے بعد، چین نے جوابی اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ چینی وزارتِ تجارت نے کہا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔یہ تجارتی تنازعہ عالمی معیشت کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے، اور ماہرین اس کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔