امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے خلاف بڑا معاشی قدم اٹھاتے ہوئے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کر دیے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ یہ اقدام روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے پر بھارت کو "سزا" دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے، اور یہ صرف شروعات ہے۔
صدر ٹرمپ کا دو ٹوک پیغام: "بھارت کو قیمت چکانی پڑے گی"
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا:"ابھی صرف آٹھ گھنٹے ہوئے ہیں۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔۔۔ بھارت کو اس فیصلے کی قیمت چکانی پڑے گی۔ آپ کو مزید سخت پابندیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ یہ صرف شروعات ہے!"ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا رویہ "مغربی اتحاد کے اصولوں کے خلاف" ہے، اور روس سے مسلسل تیل خریدنا ناقابل قبول ہے۔
بھارت کے لیے ممکنہ معاشی دھچکا
امریکی اقدامات کے اثرات سے:بھارت کی برآمدات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل اور آئی ٹی سیکٹر میں۔روپے کی قدر دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔سرمایہ کاروں میں غیریقینی فضا پیدا ہو گئی ہے۔تجارتی منڈیوں میں بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی کے آثار دیکھے جا رہے ہیں۔
امریکی حکام کے اشارے: جرمانے اور دیگر رکاوٹیں بھی متوقع
ذرائع کے مطابق:بھارت کو مزید مالی جرمانوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔تجارتی مراعات معطل کیے جا سکتے ہیں۔ٹیکنالوجی ایکسپورٹ پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
بھارتی حکومت پر اندرونی دباؤ
بھارت کے اندر اس فیصلے پر شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے:اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔کانگریس پارٹی کے رہنما نے کہا:"غلط سفارتی اور معاشی پالیسیوں کا نتیجہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ روس سے سستا تیل لینا وقتی فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے نتائج سنگین ہیں۔"
بین الاقوامی تنہائی کا خطرہ؟
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق:بھارت کی روس کے ساتھ گہرے ہوتے تعلقات، اسے مغربی اتحادیوں خصوصاً امریکہ سے دور کر رہے ہیں۔بھارت کے لیے یہ ایک سفارتی چیلنج بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر یورپی یونین بھی امریکہ کی پیروی کرے۔
ممکنہ ردعمل اور مذاکرات؟
اب تک بھارتی حکومت کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ:نئی دہلی میں امریکی سفیر کو طلب کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ممکنہ طور پر خاموش سفارتکاری کے ذریعے حالات کو قابو میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔