پیپلز پارٹی کے عہدیدار پر تشدد: بااثر شخصیت کے گارڈز گرفتار، مرکزی ملزم فرار

پیپلز پارٹی کے عہدیدار پر تشدد: بااثر شخصیت کے گارڈز گرفتار، مرکزی ملزم فرار

کراچی کے علاقے بوٹ بیسن میں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے عہدیدار پر تشدد کرنے والے مسلح افراد کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 7 سیکیورٹی گارڈز کو گرفتار کر لیا، جبکہ واقعے میں ملوث مرکزی ملزم بلوچستان فرار ہوگیا۔

واقعہ کی تفصیلات
پولیس کے مطابق، پیپلز پارٹی یوتھ آرگنائزیشن کراچی ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات پر تشدد کے واقعے میں بلوچستان کی ایک بااثر شخصیت کا بیٹا شاہ زین مری ملوث نکلا۔ ملزم واقعے کے بعد کراچی سے فرار ہو کر بلوچستان چلا گیا۔ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق، گرفتار گارڈز میں غوث بخش، علی زین، حسن اور جلاد خان شامل ہیں، جو کہ شاہ زین مری کے ذاتی محافظ ہیں۔ پولیس نے ملزمان سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا ہے، جس کی قانونی حیثیت جانچنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں کہ آیا یہ لائسنس یافتہ تھا یا غیر قانونی۔

پولیس کا ردعمل اور گرفتاری کی کوششیں
ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ شاہ زین مری نے اپنے گارڈز کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کے عہدیدار کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے بلوچستان حکومت سے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے رابطہ کرلیا ہے، جبکہ دیگر مفرور افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج اور تحقیقات
بوٹ بیسن میں ہونے والے اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی، جس میں واضح طور پر مسلح افراد کو پیپلز پارٹی کے رہنما پر وحشیانہ تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔