افغان حکام کی پاکستانی سرحد پر چیک پوسٹ بنانے کی کوشش:دفتر خارجہ

 افغان حکام کی پاکستانی سرحد پر چیک پوسٹ بنانے کی کوشش:دفتر خارجہ

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ افغان حکام نے پاکستانی سرحد پر چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کی، جس پر پاکستان نے سخت ردعمل دیا اور اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عندیہ دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ بارڈر بندش ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جس میں مختلف ایجنسیاں شامل ہوتی ہیں۔ افغان حکام کی جانب سے طورخم سرحد پر چیک پوسٹ بنانے کی کوشش کی گئی، جس پر پاکستان نے واضح موقف اپنایا کہ اس طرح کے معاملات کو سفارتی سطح پر حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے بارہا افغانستان میں جدید امریکی ہتھیاروں کے دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ ہتھیار پاکستان کے اندر دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، اور ہم مسلسل اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہے ہیں۔

وزیراعظم کے غیر ملکی دورے اور اہم سفارتی روابط
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کا پہلا دورہ کیا، جس کے دوران 5 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ وزیراعظم نے صدر الہام علیوف کی دعوت پر آذربائیجان اور صدر شوکت میرزائیو کی دعوت پر ازبکستان کا بھی دورہ کیا۔اسی طرح، اماراتی وزیراعظم کی دعوت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ہم منصب سے ملاقات کی، جبکہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے وزارتی اجلاس میں شرکت کے دوران اسحاق ڈار نے غزہ اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے چینی وزیر خارجہ وانگ ژئی سے بھی ملاقات کی۔

دیگر اہم سفارتی پیش رفت
ترجمان کے مطابق:

آئی اے ای اے کے ڈی جی رافائیل ماریانو گروسی نے پاکستان کا دورہ کیا۔پاک-جاپان باہمی سیاسی مشاورت کا چوتھا دور ٹوکیو میں منعقد ہوا، جس میں دہشت گردی کے عالمی خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکا سے جلا وطن ہونے والے 8 پاکستانی وطن واپس پہنچے، جن کی شناخت کے حوالے سے ایف آئی اے اور وزارت داخلہ مزید تفصیلات فراہم کرے گی۔امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، جن میں ایف-16 پروگرام بھی شامل ہے۔ امریکا کا اس پروگرام سے متعلق حالیہ فیصلہ پاکستان کے لیے خوش آئند ہے۔دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی سفارتی ترجیحات میں سیکیورٹی، علاقائی استحکام اور عالمی تعلقات کو متوازن رکھنا شامل ہے۔