ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کا بیان پاکستان کے مؤقف کی تصدیق کرتا ہے، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کردیا ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیر اعظم نے 23 اور 24 فروری کو امیر قطر کی دعوت پر قطر کا اہم دورہ کیا، جس میں امیر قطر نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر قطر کے وزیر دفاع اور وزیر مملکت نے بھی وزیراعظم سے ملاقاتیں کیں اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سعودی عرب کے دورے پر ہیں، جہاں وہ جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیرمعمولی وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ 26 فروری کو ہونے والے اس اجلاس میں اسرائیلی قابض حکام کے غیرقانونی اقدامات، خصوصاً مقبوضہ مغربی کنارے کو نام نہاد ریاستی اراضی قرار دینے کے فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔ اسحاق ڈار اجلاس میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور او آئی سی رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ رواں ماہ سمجھوتا ایکسپریس حملے کی 19ویں برسی ہے، جس میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں ملوث سوامی آسیم آنند اور بھارتی کرنل پروہت نے عوامی سطح پر اپنے جرم کا اعتراف کیا، تاہم اس کے باوجود اس حملے میں ملوث چاروں ملزمان آج تک آزاد گھوم رہے ہیں اور بھارت انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بار پھر بھارتی وزارت خارجہ کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم پر قائم ہے اور ایسے بیانات خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔