کرم میں دو قبائل کے درمیان تنازعہ کے حل کے لیے کوہاٹ میں ہونے والے گرینڈ امن جرگے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں فریقین نے معاہدے کو تقریباً حتمی شکل دے دی ہے۔
اس معاہدے کے تحت دونوں قبائل حکومت کو بھاری ہتھیار دینے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق، کوہاٹ فورٹ میں ہونے والے جرگے میں مشیران نے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، اور ایک فریق کے افراد آج دستخط کریں گے۔ کمشنر کوہاٹ آفس میں آج اس معاہدے کے حتمی فیصلے کا اعلان متوقع ہے۔پارا چنار پشاور مرکزی شاہراہ اور اپر کرم کا راستہ گزشتہ ڈھائی ماہ سے بند ہے، جس کی وجہ سے اپر کرم کو ہر قسم کی سپلائی معطل ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث کرم میں ادویات کی کمی اور اشیائے ضروریہ کا فقدان پیدا ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں 123 بچوں کی موت بھی واقع ہو چکی ہے۔ تحصیل چیئرمین آغا مزمل نے حکومت کو اس صورتحال پر شدید تنقید کی۔
پارا چنار کی ابتر صورتحال کے خلاف کرم پریس کلب پر 9 دن سے دھرنا جاری ہے، جب کہ شہر کے مختلف مقامات اور کراچی میں بھی دھرنے دیے جا رہے ہیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے اور سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک پولیس نے متبادل روٹس فراہم کیے ہیں۔اس پیشرفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کرم میں قیام امن کے لیے فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہے، تاہم حالات میں بہتری کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔