ڈی آئی خان: کرم میں امن و امان کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں فریقین کے درمیان ایک گرینڈ جرگہ جاری ہے اور اس میں امن معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ایک فریق نے پہلے ہی امن معاہدے پر دستخط کر لیے ہیں، اور توقع ہے کہ دوسرے فریق کے بھی اس پر دستخط کر دیے جائیں گے۔ معاہدے کی شرائط کے مطابق علاقے کو اسلحہ سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ بنکرز کا بھی خاتمہ کیا جائے گا، اور اگر علاقے میں کسی بھی نوعیت کی دہشت گردی ہوئی تو حکومت اس کے خلاف فوری کارروائی کرے گی۔صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے اس موقع پر کہا کہ صوبائی حکومت پاراچنار اور کرم کے تنازعے کے پائیدار اور دیرپا حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی کوششوں سے ایک صدی سے زائد پرانا یہ تنازعہ اب پائیدار حل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ایپکس کمیٹی کے فیصلے کے مطابق علاقے کو اسلحہ سے پاک کرنا اور امن قائم کرنا اہم اقدامات میں شامل ہیں۔دوسری جانب، مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کرم میں ابھی تک دھرنا جاری ہے اور سڑکیں بدستور بند ہیں، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس صورت حال میں لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، تاہم امن معاہدے کے بعد علاقے میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔