بھارتی وزیراعظم مودی کے دعووں پر دفتر خارجہ کا دوٹوک ردعمل

بھارتی وزیراعظم مودی کے دعووں پر دفتر خارجہ کا دوٹوک ردعمل

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر امن کی تلاش میں لاہور کا سفر کیا تھا اور پاکستان کو حلف برداری کی تقریب میں مدعو کرنا ایک اہم قدم تھا۔

 ان کا کہنا تھا کہ جب وہ بھارت کے وزیراعظم بنے تو پاکستان کو اس تقریب میں مدعو کرنا ان کے لیے ایک بڑی اور مثبت کارروائی تھی۔ مودی نے یہ بھی کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے عوام بھی امن کے خواہاں ہیں، تاہم ان کی حکومت نے بھارتی کرکٹ ٹیم کو پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی۔انہوں نے مزید کہا کہ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے اور وہ کسی بھی کھیل کو بدنام ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارتی وزیراعظم کے بیان کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل طلب ہے۔

 ترجمان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ پاکستان ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر تعمیری مذاکرات کا حامی رہا ہے۔ترجمان نے بھارت کے پاکستان مخالف بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں امن کے امکانات کو نقصان پہنچتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور تعاون کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے اور بھارت کو بھی اپنے اقدامات پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔