بڑے سرکاری اداروں کے ہالز میں امتحانی مراکز بنانیکی تجویز زیر غور
لاہور(خصوصی رپورٹ)پنجاب کے تعلیمی بورڈز میں امتحانی نظام کو مزید شفاف اور یکساں بنانے کے لیے اہم اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تمام بورڈز میں امتحانی پرچوں کا معیار اور مشکل کا تناسب یکساں ہوگا، جبکہ مارکنگ کے نظام میں بھی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ امتحانی مراکز میں نگرانی سخت کرنے کے ساتھ پیپر چیکرز کی تربیت اور معاوضے کا نظام بھی بہتر بنایا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے تعلیمی بورڈز میں امتحانات کے معیار اور شفافیت کے لیے اصلاحات کا آغاز کردیا گیا۔ اس سے قبل مختلف بورڈز کے امتحانی پرچوں میں مشکل کا تناسب مختلف ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اب تمام بورڈز میں پرچوں کا معیار اور مشکل کی سطح یکساں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔امتحانات میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے بڑے سرکاری اداروں کے ہالز میں امتحانی مراکز قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جہاں سخت نگرانی کے ذریعے نقل اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام یقینی بنائی جائے گی۔پرچوں کی مارکنگ کے لیے سہولیات بہتر بنانے، مارکنگ سکیم پر نظرثانی اور تمام تعلیمی بورڈز میں پیپر چیکرز کے معاوضے کا نظام بھی یکساں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پیپر چیکرز کو مارکنگ مکمل کرتے ہی آن لائن معاوضے کی ادائیگی کا نظام بھی بنایا جائے گا۔ مزمل محمود، چیئرمین سی ایم ٹاسک فورس کا کہنا ہے کہ پیپر چیکرز اور سپر چیکرز کی مو?ثر تربیت اور باقاعدہ ٹریننگ کرائی جائے گی، تاکہ امتحانات اور مارکنگ کے معیار کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔امتحانات کے بعد طلبہ کی کارکردگی سے متعلق رپورٹس بھی تیار کی جائیں گی، جبکہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ نتائج کے اعلان کا شیڈول بھی دوبارہ ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مزمل محمود کا کہنا ہے کہ امتحانی اصلاحات کا مقصد امتحانات میں شفافیت، معیار اور نگرانی کے نظام کو مزید مو ثر بنانا ہے۔تعلیمی بورڈز میں مجوزہ اصلاحات کے ذریعے امتحانی پرچوں سے لے کر مارکنگ، نگرانی اور نتائج کے اعلان تک پورے نظام کو یکساں اور شفاف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔