انگلش پریمیئر لیگ فٹبالرز کے خلاف میچ فکسنگ کے سنگین انکشافات

انگلش پریمیئر لیگ فٹبالرز کے خلاف میچ فکسنگ کے سنگین انکشافات

انٹرنیشنل اسپورٹس کرائم انویسٹی گیشن یونٹ کے سابق سربراہ فریڈرک گیرارڈے نے تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انگلش پریمیئر لیگ کے متعدد کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔

فریڈرک گیرارڈے کے مطابق سال 2021 میں ایک غیر قانونی سوئیڈش کیسینو پر چھاپے کے دوران پولیس کو ایک موبائل فون ملا جس میں ایسے شواہد موجود تھے جو کھلاڑیوں کے جرائم پیشہ گروہوں سے روابط اور یورپی لیگز و نیشنز لیگ میں میچ فکسنگ کی تصدیق کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کھلاڑیوں نے میچز کے دوران یلو کارڈز اور کارنرز پر شرط لگانے کے لیے براہِ راست تعاون کیا، تاہم اس سنگین معاملے کو نظرانداز کیا گیا۔ ان کے مطابق اسٹاک ہوم پولیس اور سوئیڈش پولیس اتھارٹی نے شواہد ملنے کے باوجود تحقیقات آگے نہیں بڑھائیں۔فریڈرک گیرارڈے کا کہنا تھا:"یہ ایک واضح کیس تھا، تمام ثبوت ایک ضبط شدہ فون میں موجود ہیں لیکن کسی نامعلوم وجہ سے تحقیقات روک دی گئیں۔"

دوسری جانب سوئیڈش فٹبال ایسوسی ایشن نے اس معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس بارے میں عمومی انٹیلی جنس معلومات ضرور فراہم کی گئی تھیں، تاہم چونکہ تفصیلی شواہد شیئر نہیں کیے گئے اس لیے وہ کارروائی نہیں کرسکے۔ایسوسی ایشن کے مطابق یہ معاملہ اس وقت پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کے پاس زیرِ التوا ہے اور آئندہ پیشرفت انہی کے فیصلے پر منحصر ہے۔