جنوبی کوریا کے اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی

جنوبی کوریا کے اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی

سیول: جنوبی کوریا نے طلبہ کی تعلیم پر منفی اثرات اور سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کے باعث کلاس رومز میں موبائل فونز کے استعمال پر پابندی عائد کردی، جو آئندہ سال مارچ 2026 سے نافذالعمل ہوگی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جنوبی کوریا کی پارلیمان کے 163 ارکان پر مشتمل ایوان میں اس قانون کے حق میں 115 ووٹ ڈالے گئے۔ اس قانون کے تحت اب ملک بھر میں تمام اسکولوں میں طلبہ موبائل فون یا کسی بھی قسم کے ڈیجیٹل آلات کلاس روم میں نہیں لا سکیں گے۔اگرچہ کئی اسکول پہلے ہی اپنی سطح پر اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندیاں عائد کر چکے تھے، لیکن اب یہ اقدام ملک گیر سطح پر لاگو ہوگا۔

 وجوہات
پارلیمانی اراکین، اساتذہ اور والدین کا مؤقف ہے کہ موبائل فونز اور سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال نے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔ اسمارٹ فونز کی وجہ سے طلبہ پڑھائی پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتے اور ان کی کارکردگی گر رہی ہے۔

 اعداد و شمار
امریکہ کے پیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ڈیجیٹل آلات کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔ ملک میں 99 فیصد افراد آن لائن ہیں جبکہ 98 فیصد افراد اسمارٹ فون رکھتے ہیں۔یہ سروے 2022 اور 2023 میں دنیا کے 27 ممالک میں کیا گیا تھا جہاں موبائل فون کے استعمال کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

 دیگر ممالک میں صورت حال
اس سے قبل چین، اٹلی اور نیدرلینڈز نے بھی اسکولوں میں موبائل فونز کے استعمال پر پابندی لگائی تھی۔آسٹریلیا نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی، جبکہ حال ہی میں نیدرلینڈز کے اسکولوں میں کیے گئے ایک تجربے سے یہ بات سامنے آئی کہ فون پر پابندی کے بعد طلبہ کی توجہ اور کارکردگی بہتر ہوئی۔