واشنگٹن: مائیکروسوفٹ کے موجودہ اور سابق ملازمین نے غزہ جنگ کے دوران کمپنی کے اسرائیلی فوج کے ساتھ مبینہ روابط پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کیا۔
ترک خبر ایجنسی انادولو کے مطابق مظاہرہ ’’نو ایزور فار اپارتھائیڈ‘‘ نامی کارکن گروپ نے منظم کیا، جو مائیکروسوفٹ کی کلاؤڈ سروس ’’ایزور‘‘ کے اسرائیلی فوجی استعمال کے خلاف سرگرم ہے۔ مظاہرین نے صدر براڈ اسمتھ کے دفتر کے باہر بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ ایک بینر پر عمارت کا نام بدل کر فلسطینی سافٹ ویئر انجینئر ’’مائی عبید‘‘ کے نام پر رکھنے کا مطالبہ درج تھا، جو 2023 میں غزہ میں شہید ہوئے تھے۔مظاہرین نے کمپنی سے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے، شفافیت اپنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ دوران احتجاج پولیس نے 7 مظاہرین کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ صدر کے دفتر میں داخل ہوگئے۔اس سے قبل بلومبرگ نے انکشاف کیا تھا کہ مائیکروسوفٹ کو اندرونی طور پر بھی سخت مزاحمت کا سامنا ہے، جہاں ملازمین اسرائیل کے ساتھ جاری شراکت داری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ مزید یہ بھی رپورٹ کیا گیا کہ مظاہروں سے نمٹنے کے لیے کمپنی نے ایف بی آئی اور دیگر اداروں سے مدد طلب کی۔
خبروں کے مطابق اسرائیلی خفیہ یونٹ 8200 مبینہ طور پر مائیکروسوفٹ ایزور کے ذریعے فلسطینی شہریوں کی ٹیلیفون کالز ریکارڈ کر رہی ہے۔ امریکی میڈیا کے انکشافات کے مطابق مائیکروسوفٹ کی اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ساتھ شراکت داری بھی موجود ہے، جس کا مقصد اہداف کی نشاندہی کے لیے خفیہ معلومات اکٹھی کرنا بتایا گیا۔کمپنی نے تاہم مؤقف اپنایا ہے کہ داخلی جائزوں میں کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس کی ٹیکنالوجی غزہ میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوئی ہو۔ مائیکروسوفٹ نے کہا تھا کہ مکمل تحقیق کے بعد رپورٹ جاری کی جائے گی لیکن اب تک ایسی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں 63 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر اور زخمی ہو چکے ہیں۔ غزہ اس وقت خوراک کی شدید قلت اور انسانی بحران سے دوچار ہے۔