اسپین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی کے بعد واضح کیا ہے کہ امریکا کو بین الاقوامی قانون اور یورپی یونین کے ساتھ طے شدہ دوطرفہ تجارتی معاہدوں کا احترام کرنا چاہیے۔
امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسپین نے ایران پر حملوں کے لیے اپنی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو امریکا اسپین کے ساتھ تمام تجارتی معاملات ختم کر دے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر چاہیں تو وہ اسپین میں موجود فوجی اڈے استعمال کر سکتے ہیں اور کوئی انہیں روک نہیں سکتا۔اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے پہلے ہی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے پر زور دیا۔ وزیر خارجہ جوزے مینول البیرس نے بھی کہا کہ اسپین کے فوجی اڈے ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہوں گے۔اس فیصلے کے بعد امریکا نے جنوبی اسپین کے روٹا اور مورون فوجی اڈوں سے 15 طیارے، بشمول ایندھن بردار ٹینکر، منتقل کر دیے۔ ٹرمپ نے اوول آفس میں کہا کہ اسپین نے برا رویہ اختیار کیا ہے اور وزیر خزانہ کو ہدایت دی ہے کہ اسپین کے ساتھ تمام لین دین ختم کر دیا جائے۔اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں امریکا کو اسپین کے ساتھ تجارت میں 4.8 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل تھا۔