دریائے راوی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند، بڑے پیمانے پر انخلا مکمل

دریائے راوی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند، بڑے پیمانے پر انخلا مکمل

لاہور: دریائے راوی میں سیلابی صورتحال تیزی سے سنگین ہو رہی ہے۔ شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 51 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے جبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آج دوپہر تک 2 لاکھ کیوسک کا ریلہ گزر سکتا ہے۔

 موجودہ صورتحال
پی ڈی ایم اے کے مطابق شاہدرہ پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 60 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔جسڑ کے مقام پر بھی 1 لاکھ 39 ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چند گھنٹوں میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ کیوسک تک بڑھ سکتا ہے۔
 انخلا اور ریلیف آپریشن
لاہور کی پانچ تحصیلوں کے 22 موضع جات کی آبادیاں مکمل یا جزوی طور پر خالی کرا لی گئی ہیں۔اب تک 1208 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔دریائی راستے اور فلڈ پلین میں موجود مویشیوں کو بھی منتقل کر دیا گیا ہے۔
متاثرہ تحصیلیں:

علامہ اقبال ٹاؤن
راوی
واہگہ
سٹی
رائیونڈ
 حکومتی اقدامات
کمشنر لاہور کے مطابق صورتحال قابو میں ہے اور تمام محکمے اپنی ذمہ داری سے کام کر رہے ہیں۔ڈی سی لاہور سید موسیٰ رضا نے بتایا کہ دریائی بیڈ میں موجود تمام افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف کارروائی جاری ہے، تھیم پارک سوسائٹی میں پانی داخل ہو چکا ہے۔این او سی جاری کرنے والے افسران کے خلاف بھی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔ریلیف کے لیے 10 مقامات پر کیمپس قائم کیے گئے ہیں، جن میں کرول وار، اراضی جنجوعہ اور جیا موسیٰ شامل ہیں۔
 ریسکیو اور انتظامیہ کی سرگرمیاں
ضلعی انتظامیہ، لاہور پولیس، محکمہ انہار، لائیو اسٹاک اور دیگر محکمے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ریسکیو 1122 کے عملے کی جانب سے ریلیف کیمپوں میں خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔مسلسل نگرانی اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔
 عوام کے لیے ہدایات
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ:غیر ضروری طور پر دریا کے قریب جانے سے گریز کریں۔انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔