نازیہ آصف
نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا،
ترجمہ، "یعنی مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا "
حضرت علی کرم اللہ وجھہ نے استاد کو یوں تکریم بخشی کہ " جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا گویا وہ میرا آقا قرار پایا "۔
بلاشبہ استاد آئندہ آنے والی نسلوں کا معمار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں صرف دو انسان ہوتے ہیں جو طالبعلم کو اپنے سے آگے بڑھتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ، ایک والدین اور دوسرا استاد۔استاد وہ راہنما ہوتا ہے ، جو خود راستہ بھول جائے تو قوم کو بھٹکنے سے کوء نہیں بچا سکتا۔مگر کیا ہوا کہ ہمارا استاد اپنا راستہ و مقام کیوں بھول رہا ہے ؟نظام تعلیم کی ناقص پالیسز وجہ خرابی ہیں، والدین کی تربیت یا نیت میں فرق ہے ،ارتکاز دولت کا چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جانا یے،ففتھ جنریشن وار میں نوجوانوں کی مناسب رہنمائی نہ ہونا ہے یا پھر سفاکیت کی حد تک خودغرضی ہے۔
اساتذہ کا لالچ و ہوس ہے یا پھر بڑھتی ہوئی بے حیائی ہے۔۔۔ ؟
وجہ کچھ بھی ہو تعلیم، تعلم اور معلم کے اس باہمی نظام میں خرابی، وطن عزیز کی بنیادوں میں گویا بارود بھرے جانے کے مترادف ہے۔ہم چند یوم پہلے وفاقی دارالحکومت کی ایک نامور یونیورسٹی کے استاد کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کا اقبالی بیان دیتے ہوئے سنتے ہیں۔اپنی دھرتی تو ماں ہوتی ہے، اسے لہو میں نہلانے کے لیے آلہ کار بننا نمک حرامی کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا، یہی سفاکیت کی انتہا ہے۔دوسری طرف بلوچستان میں حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ حالیہ جنگ میں ناکامی کے بعد ہمسایہ ملک اب صیہونیت کے اشتراک کے ساتھ، اس ہزیمت کا بدلہ ہمارے ملک کی بنیادوں میں بارود بھر کر لینا چاہ رہا ہے۔کس قدر افسوس اور شرم کی بات ہے کہ جب ایک یونیورسٹی کا استاد چند ٹکوں کے عوض اپنے طالب علموں کو اپنے ہی ملک کے خلاف دشمن کا آلہ کار بنانے پہ تل جائے۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کہ ان کے صوبے کے ساتھ زیادتی ہوئی بھی ہو تو اس کے احتجاج کے لیے بہت سے پلیٹ فارمز ہیں وہ وہاں اپنا احتجاج کروا سکتے ہیں۔ دشمن کے ہاتھوں آلہ کار بن جانا تو کسی صورت زیب نہیں دیتا، یہ کھلی غداری ہوتی ہے جس کی سزا موت کے سوا کچھ نہیں ہونی چاہیے۔لیکن اس چیز کا ایک دوسرا پہلو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ عہد حاضر میں جب ترقی یافتہ اقوام کوانٹم فزکس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جینیاتی انجینئرنگ میں اعلی مقام حاصل کر رہی ہیں ہمارے ہاں آئے روز یونیورسٹیز سے سکینڈلز برآمد ہورہے ہیں۔ اچھے گریڈز کا جھانسہ دے کر بچوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ یاد رکھیے یہ ففتھ جنریشن وار ہے۔ جس میں استاد اور شاگرد دونوں کو بیک وقت شکار اور ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔ ففتھ جنریشن وار نالج اور علم کی جنگ ہے۔ ٹیکنالوجی کی جنگ ہے۔ پروپیگنڈے کی جنگ ہے۔ جو اپنے گھر میں بیٹھ کر دوسرے کے گھر والوں کو ہی آپس میں لڑا کر لڑی جا سکتی ہے۔ اس جنگ کا سب سے اہم نشانہ نوجوان نسل ہوتی ہے۔ کیونکہ دفاعی جنگ میں بھی یہی لوگ زیادہ تر کار آمد ہوتے ہیں۔ ہم اسی لیے اس جنگ کو گھر کی بنیادوں میں بارود بھر نا کہا جاتا ہے۔
قارئین ، جان لیجیے نادیدہ دشمن ہمارے گھروں میں گھس آیا ہوا یے اس کے وار کرنے کے طریقے اور ہیں۔گن، بندوق یا ٹینک سے مارنے کے طریقے متروک ہو چکے ہیں۔ ہیروز اور نظریات کو متنازعہ بنانا، اپنی تاریخ کو گڈ مڈ کرنا ، دین میں موشگافیاں نکال کر عام ذہن کو بدظن کرنا ، رشتوں کے تقدس کو پامال کرنے کے انداز سکھانا ، اپنی ہی سرزمین کے خلاف زہن سازی کرنا ، اپنی تہزیب و ثقافت سے متعلق احساس کمتری میں مبتلا کرنا، عسکری اور سول اداروں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کرنا یہ وہ طریقے ہیں جن سے کسی ملک یا قوم کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں ، چولیں ہل جاتی ہیں۔یہی ففتھ جنریشن وار کے طریقے ہیں۔جن کو جلد ازجلد سمجھنا اور ان کا سد باب کے لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا ایپس پر چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے ، فیک پراپیگنڈے سے نبٹنے کے لیے نوجوانوں تک درست اور بروقت معلوماتِ پہنچائی جائیں۔ انھیں اپنے دین ، تاریخ اور اپنے عصر حاضر کے جدید علوم سے بخوبی آراستہ کیا جائے اور کالی بھیڑوں جیسے اساتذہ کو بلا تاخیر ان کے انجام سیاہ تک پہنچایا جائے ‘ترقی یافتہ ممالک اپنے عوام کی تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا 5 سے %7 تعلیم پہ خرچ کرتے ہیں جبکہ ہم محض 1.7 فیصد ہی دے پا رہے ہیں۔ جو زیادہ تر انفراسٹرکچر پہ ہی خرچ ہو جاتا ہے لیکن حالیہ پاک بھارت جنگ میں ہم نے کم تعداد اور کم ذرائع میں رہ کر دشمن کو چاروں شانے چت کر کے ثابت کیا ہے کہ اگر کم بجٹ کو بھی دیا نتداری اور خلوص سے ملک کی بنیادوں کو مضبوط کرنے پہ لگایا جائے تو بہترین نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔