بنیان مرصوص: بارود نہیں، بیانیہ اصل فیصلہ کن ہتھیار

 محمد راشد تبسم
جدید جنگوں کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے۔ وہ زمانہ گزر چکا جب جنگ کا مطلب صرف توپ ، میزائلوں کی گھن گرج اور سرحدوں پر جھڑپیں ہوا کرتی تھیں۔ آج کا اصل میدان وہ ہے جو نظر نہیں آتا—یعنی بیانیے کی جنگ، اور معلومات کے بہاو پر کنٹرول۔ اس نئے جنگی ماحول میں گولی چلنے سے پہلے خبر چلتی ہے اور دھماکے سے پہلے ایک دعویٰ حقیقت بننے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی تناظر میں مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ اور آپریشن بنیان مرصوص ایک ایسی مثال کے طور پر سامنے آیا جس نے واضح کر دیا کہ جدید تصادم میں فیصلہ صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ بیانیے کی ساکھ کرتی ہے۔
 آپریشن بنیان مرصوص کے دوران بھارت کو نمایاں جنگی اور معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی فضائیہ کے کم از کم پانچ طیارے، جن میں رافیل بھی شامل تھے، تباہ ہوئے جبکہ متعدد فوجی اڈے، بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، سرحدی چوکیاں، میزائل سسٹمز اور لاجسٹک مراکز کو شدید نقصان پہنچا جس سے بھارتی فوج کا مورال بری طرح ڈا?ن ہوا۔ معاشی لحاظ سے بھی بھارت کو ابتدائی گھنٹوں میں ہی اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں گراوٹ دیکھنے میں آئی اور سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان ہوا، جس سے مجموعی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ مزید برآں، ان حالات کے سبب بھارتی حکومت کو عالمی دباو کا سامنا کرنا پڑا اور جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں کرنا پڑیں۔ 
یہ تمام صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ اب صرف ہتھیاروں کا تصادم نہیں رہی بلکہ ایک جامع نظامی مقابلہ بن چکی ہے، جس میں انٹیلی جنس، لاجسٹکس، ٹیکنالوجی اور مؤثر رابطہ کاری کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس نئے ماحول میں معمولی تکنیکی یا معلوماتی کمزوری بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
تاہم اس تمام صورتحال کا سب سے اہم اور فیصلہ کن پہلو بیانیے کی جنگ تھی۔ یہی وہ محاذ تھا جہاں اصل مقابلہ نظر آیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیانیہ اتنا طاقتور کیوں ہو چکا ہے؟ دراصل بیانیہ کسی بھی واقعے کو اس انداز میں پیش کرنے کا نام ہے جو لوگوں کی سوچ، جذبات اور رائے کو متاثر کرے۔ جدید میڈیا، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اس عمل کو نہایت تیز اور وسیع بنا دیا ہے۔ آج ایک خبر چند سیکنڈ میں لاکھوں ، کروڑوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، اور اگر وہ خبر سنسنی خیز ہو تو اس کا اثر اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔
آپریشن بنیان مرصوص کے دوران بھارتی میڈیا پر ایسے کئی دعوے سامنے آئے جنہوں نے صورتحال کو حقیقت سے زیادہ ایک سنسنی خیز کہانی میں بدل دیا۔ 9 مئی کی رات بعض چینلز نے ‘‘پاکستان میں فوجی بغاوت’’ اور ‘‘اسلام آباد میں نظام کے مفلوج ہونے’’ جیسے دعوے نشر کیے۔ چند گھنٹوں تک یہ خبریں میڈیا میں تیزی سے گردش کرتی رہیں، مگر بعد ازاں کسی آزاد یا مستند ذرائع نے ان کی تصدیق نہ کی۔ یوں یہ دعوے عالمی سطح پر غلط معلومات کی مثال بن گئے۔ بھارت کی طرف سے میڈیا پر ایسے بیانیے بار بار پیش کئے گئے جن میں پاکستان کی قیادت کو دباو میں، دفاعی نظام کو کمزور اور صورتحال کو بے قابو دکھانے کی کوشش کی گئی۔ بعض ٹی وی چینلز نے تو بھارتی ٹینکوں کے پاکستانی میں داخل ہونے کا بھی جھوٹا دعوی کر دیا مگر بعد ازاں یہ دعوے بھی غیر مصدقہ معلومات میں شمار ہوئے۔
یہ وہ مرحلہ تھا جہاں خبر اور افواہ کے درمیان فرق واضح نہ رہا۔ جدید میڈیا کے دور میں سب سے پہلے خبر کی دوڑ نے بعض اوقات تصدیق کے عمل کو نظر انداز کر دیا گیا جس کے باعث غیر مصدقہ معلومات بھی بریکنگ نیوز کا حصہ بن گئیں۔
بیانیے کے میدان میں ایک اور اہم پہلو ویڈیوز کا استعمال رہا۔ سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی گئیں جنہیں حقیقی جنگی مناظر کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ان میں سے کئی مواد پرانے کلپس، ویڈیو گیمز یا کمپیوٹر سے تیار کردہ مناظر پرمشتمل نکلے۔ مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیوز نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جس سے عام لوگوں کے لیے حقیقت اور غلط معلومات میں فرق کرنا مشکل ہو گیا۔ اسی طرح جعلی سرکاری نوٹیفیکیشن، ہنگامی ہدایات اور عالمی میڈیا اداروں کے نام استعمال کر کے بنائے گئے گرافکس بھی سامنے آئے۔ ان کا مقصد عام لوگوں کے ذہنوں پر فوری تاثر پیدا کرنا تھا۔ چونکہ عام آدمی اکثر تفصیلات چیک نہیں کرتا بلکہ سرخی (ہیڈنگ)اور برانڈ دیکھ کر رائے قائم کرتا ہے، اس لیے یہ حربے خاصے موثر ثابت ہوئے۔
اس پوری صورتحال میں بھارت کی جانب سے ایک واضح طرزعمل سامنے آیا: پہلے ایک مضبوط اور حتمی دعویٰ کیا گیا، پھر اسے جذباتی انداز میں پیش کیا گیا، اس کے بعد گرافکس اور نقشوں کے ذریعے اس کومزید مضبوط کیا گیا، اور آخر میں ‘‘ذرائع کے مطابق’’ جیسے غیر واضح الفاظ کا استعمال کیا گیا۔ اس تمام مہم کا مقصد معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ ایک خاص تاثر قائم کرنا تھا۔
تاہم اس پروپیگنڈا مہم کے مقابلے میں پاکستانی ڈیجیٹل حلقوں میں ایک مختلف ردعمل سامنے آیا۔ یہاں منظم انداز میں دعووں کا جائزہ لیا گیا اور ان کی تردید کی گئی۔ اسکرین شاٹس، ریورس امیج سرچ، ویڈیو تصدیق اور فیکٹ چیک رپورٹس کے ذریعے ہر دعوے کو تفصیل سے دیکھا گیا۔ اس عمل نے عام آدمی کو صرف مواد پڑھنے والا نہیں بلکہ ایک فعال تجزیہ کرنے والا بنا دیا۔ مثال کے طور پر جب بھارتی حلقوں کی طرف سے فوجی بغاوت کا دعویٰ سامنے آیا تو اسلام آباد کی معمول کی سرکاری سرگرمیوں کی ویڈیوز فوری طور پر شیئر کی گئیں، جنہوں نے اس دعوے کی قلعی کو کھول کر رکھ دیا۔ اسی طرح جعلی ویڈیوز کو اصل مواد کے ساتھ تقابلی انداز میں پیش کیا گیا، جس سے چند ہی گھنٹوں میں اصل صورتحال واضح ہو گئی۔ دریں اثنا پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے بھی بھارتی دعووں کو مزاحیہ مواد میں تبدیل کر دیا۔ بھارتی اینکر کے ‘‘ہم کل راولپنڈی میں ناشتہ کریں گے’’ جیسے جملے سوشل میڈیا پر ہزاروں میمز کا حصہ بنے، جس کے نتیجے میں جنگی دعوے نفسیاتی دباو پیدا کرنے کے بجائے طنز اور مذاق کا موضوع بن گئے۔
پاکستانی ڈیجیٹل حلقوں میں مخصوص ہیش ٹیگز کے ذریعے بھارتی دعووں اور ان کی حقیقت کو ایک ساتھ پیش کیا گیا۔ ان ہیش ٹیگز کو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں استعمال کیا گیا، جس سے معلومات صرف مقامی سطح تک محدود نہ رہی بلکہ بین الاقوامی سطح تک پہنچ گئی۔ اسی طرح بھارتی غلط دعووں اور ٹویٹس کے اسکرین شاٹس لے کر ان کو سیو کیا گیا، تاکہ انہیں بعد میں ڈیلیٹ کیے جانے کی صورت میں بھی بطور ثبوت پیش کیا جا سکے۔ اس عمل نے بیانیے کی جنگ میں ایک نئی جہت پیدا کی۔
یہ صورت حال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے: کیا مستقبل کی جنگیں بنیادی طور پر بیانیے کی بنیاد پر ہوں گی؟ موجودہ رجحانات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ کیونکہ جب ایک غلط خبر لمحوں میں کروڑوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے تو اس کا اثر بھی انتہائی گہرا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جب ایک درست اور مستند معلومات مضبوط شواہد کے ساتھ سامنے آتی ہے تو وہ پورے بیانیے کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آپریشن بنیان مرصوص سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ آج کے دور میں جنگیں صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ لوگوں کے ذہنوں اور رائے پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ ہتھیار فوری اثر ڈال سکتے ہیں، لیکن سچائی اور بیانیے کا اثر دیر تک قائم رہتا ہے۔ یہی چیز مستقبل کی جنگوں کی سمت کا تعین کرے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی ادارے، میڈیا اور عوام تینوں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور معلومات کو تصدیق کے بغیر آگے بڑھانے سے گریز کریں۔ کیونکہ آج کے دور میں ایک خبر نہ صرف تاثر بدل سکتی ہے بلکہ حالات کا رخ بھی متعین کر سکتی ہے۔