ابن امام
جب کسی مملکت کا دستور اپنے مقصدِ وجود کو فراموش کر بیٹھتا ہے، اور اہلِ اقتدار اپنے ضمیر کو مراعات کے عوض رہن رکھ دیتے ہیں، تو سمجھ لیجیے کہ اس مملکت کی دیواروں میں دیمک لگ چکی ہے۔ قانون اپنی حرمت کھو دیتا ہے، انصاف نوکر بن جاتا ہے، اور پارلیمان مفاد کی منڈی میں بدل جاتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی فضا، بالخصوص مجوزہ ستائیسویں آئینی ترمیم، گویا اسی المیے کی تازہ قسط ہے جہاں اصلاحات کے پردے میں اختیارات کی تقسیم کے بجائے مراعات کی تقسیم کا نیا باب کھل گیا ہے۔ یہ ترمیم اگر نیتِ صالح سے کی جاتی تو اداروں میں توازن پیدا ہوتا، مگر افسوس کہ یہاں بھی اصل مقصود عوامی خدمت نہیں بلکہ اہلِ اقتدار کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرنا محسوس ہوتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب بھی قانون طاقتور کے لیے نرمی اور کمزور کے لیے سختی بن جائے تو ریاست کا انجام ناگزیر زوال کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
رومی سلطنت کے ابتدائی عہد میں جولیئس سیزر نے قانون و نظم کی بنیاد رکھی، عوام کو قانون کے تابع کیا، اور رومی ریاست کو اخلاقی وقار بخشا۔ مگر جب نیرو جیسے حکمران آئے تو عدل کی مسند درباری خوشامد کے سامنے جھک گئی۔باہم لا محدود اختیارات کی بندر بانٹ ہونے لگی محلات کی روشنیوں کے پیچھے قوم کی روح اندھیروں میں ڈوب گئی اور روم، جو دنیا کا استاد تھا، خود اپنی کتابِ زوال کا پہلا باب بن گیا۔
عباسی خلافت کے زمانے میں ہارون الرشید نے بغداد کو علم و عدل کا گہوارہ بنایا۔ علماء کی عزت تھی، بیت المال امانت سمجھا جاتا تھا، اور وزراء فہم و دانائی کے سبب منتخب ہوتے تھے۔ مگر جب المتوکل اور اس کے بعد کے خلفا نے آسائش اور درباری تعیش کو حکمتِ سلطنت بنا لیا تو وزیروں نے خزانہ لوٹ کا مال سمجھا، اور بغداد کی روشنی ماند پڑ گئی۔ علم باقی رہا مگر عدل رخصت ہو گیااور جہاں عدل رخصت ہو، وہاں ریاست دیرپا نہیں رہتی۔
عثمانی سلطنت میں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کی فصیلیں توڑ کر عدل و قانون کی بنیاد پر ایک نئی دنیا کھڑی کی۔ مگر بعد میں سلیم ثالث اور اس کے جانشینوں نے یورپی درباروں کی نقالی، عیش و عشرت اور خوشامد کو شعار بنا لیا۔ درباری طاقتور ہوئے مطلق و تاحیات اختیارات حاصل کئے، عدل کمزور پڑ گیا، اور سلطنت کے ستون اندر سے ٹوٹنے لگے۔ وہ خلافت جو امت کی پناہ گاہ تھی، تاریخ کی کتاب میں ایک باب بن کر رہ گئی۔
برطانیہ کے عروج کا راز ملکہ الزبتھ اوّل کے نظم، میرٹ اور قانون کی بالادستی میں تھا۔ مگر جب بعد کے حکمرانوں نے اصول کے بجائے مفاد کو شعار بنایا تو اخلاقی زوال نے طاقت کی جڑ کاٹ دی۔ مستعمرات بغاوتوں میں بدل گئیں اور ‘‘سورج نہ ڈھلنے والی سلطنت’’ اپنے ہی سایوں
میں گم ہو گئی۔
یہ تمام مثالیں پاکستان کے لیے عبرت ہیں۔ ریاستیں توپ و تفنگ سے نہیں بلکہ عدل و احتساب سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر قانون عوام کی امانت ہے تو اسے عوام کی فلاح میں بہنا چاہیے، نہ کہ اشرافیہ کی تجوریوں میں سمٹ جانا چاہیے۔ مجوزہ ستائیسویں ترمیم کو اگر واقعی قومی اصلاح کی نیت سے لایا جاتا تو اسے شفافیت، احتساب اور عوامی مفاد کے اصولوں سے مشروط کیا جاتا مگر ایسا نہ ہوا اب تاریخ ایک بار پھر اپنے فیصلہ کن قلم سے یہی لکھے گی کہ "یہ قوم بھی ان سلطنتوں کی صف میں شامل ہو گئی جنہوں نے مراعات کے بدلے اپنی بنیادیں بیچ دیں۔"
ریاست کی بقا عدل سے ہے، طاقت سے نہیں۔ طاقت وقتی ہے، عدل دائمی۔ جب حکمران اپنی مراعات کے لیے قانون گھڑنے لگیں تو ریاست کا زوال تحریرِ تقدیر بن جاتا ہے۔ عدل نہ رہا تو تخت بھی نہیں بچتا، اور جہاں تخت بچانے کے لیے عدل قربان کیا جائیوہاں تاریخ کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے بھی فرمایا: "بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے"۔ اور حضور اکرم نے فرمایا: "جب تم اپنے کمزوروں کا خیال رکھو گے تو تمہاری روزی میں برکت ہو گی"۔ یہی وہ سنتِ الٰہی ہے جس سے روگردانی کرنے والی قومیں ہمیشہ اپنی طاقت کے بوجھ تلے دب کر بکھر جاتی ہیں۔