محمد نعیم قریشی۔
دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جسے آنے والی نسلیں شاید تاریخ کے ایک اہم موڑ کے طور پر یاد رکھیں گی۔ مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، طاقت کے مظاہرے اور جنگی تیاریوں نے عالمی فضا کو بے یقینی اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کا ایک بڑا حصہ کسی نہ کسی شکل میں تنازع یا جنگ کے سائے تلے آ چکا ہو۔ اس صورتحال کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت، تجارت، سیاحت اور فضائی سفر تک پھیل چکے ہیں۔
ایوی ایشن اور ٹورازم کی صنعتیں، جو عالمی معیشت کے اہم ستون سمجھی جاتی ہیں، شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ وہ شہر جو کبھی سیاحت اور خریداری کے عالمی مراکز کہلاتے تھے، وہاں کی رونقیں ماند پڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ سرمایہ کار غیر یقینی کا شکار ہیں اور کئی ملکوں کی معیشتیں عدم استحکام کا سامنا کر رہی ہیں۔ جب جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو اس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
ایسے حالات میں ایک اہم سوال بار بار اٹھتا ہے کہ کیا دنیا کی بڑی طاقتیں واقعی ہر وہ مقصد حاصل کر سکتی ہیں جو وہ چاہتی ہیں؟ تاریخ اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ طاقتور ممالک نے کئی بار اپنی فوجی برتری کے ذریعے دنیا کے مختلف خطوں میں اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن نتائج ہمیشہ ان کی خواہشات کے مطابق نہیں نکلے۔ ویتنام کی جنگ اور افغانستان کی طویل لڑائی اس حقیقت کی واضح مثالیں ہیں کہ صرف عسکری طاقت کسی قوم کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔
اسی طرح کیوبا اور ایران جیسے ممالک کی مثالیں بھی دنیا کے سامنے موجود ہیں جہاں شدید بیرونی دباؤ کے باوجود ریاستی نظام قائم رہا۔ ان واقعات سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا کے معاملات صرف سیاسی منصوبوں یا عسکری حکمت عملی سے نہیں چلتے۔ ایک ایسی قوت بھی موجود ہے جو انسانی منصوبوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور بالآخر وہی فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔
حالیہ کشیدگی میں ایران کو بھی شدید دباؤ اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شہری علاقوں پر حملوں نے بے شمار جانوں کا نقصان کیا اور کئی خاندانوں کو غم و الم میں مبتلا کر دیا۔ جنگ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ اس کا بوجھ اکثر عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے جن کا کسی سیاسی فیصلے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
اس کے باوجود ایران کے اندرونی حالات پر نظر ڈالیں تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ ریاستی ادارے اپنی جگہ موجود ہیں، حکومتی نظام کام کر رہا ہے اور معاشرتی زندگی مکمل طور پر مفلوج نہیں ہوئی۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ کسی بھی ریاست کو صرف عسکری حملوں کے ذریعے کمزور کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ جب عوام اور ریاستی ڈھانچہ کسی مشترکہ مقصد پر متحد ہو جائیں تو بیرونی دباؤ کے باوجود استحکام برقرار رہ سکتا ہے۔
ایرانی معاشرے میں بھی یہی رجحان دکھائی دیتا ہے۔ وہاں کے عوام نے اپنے ملک کی خودمختاری اور نظام کے دفاع کے لیے مضبوط عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی قوموں کا یہی جذبہ انہیں سہارا دیتا ہے اور ریاست کو بحرانوں سے نکالنے میں مدد دیتا ہے۔
تاہم کسی بھی قوم کے لیے صرف حوصلہ کافی نہیں ہوتا۔ مضبوط سکیورٹی نظام، مؤثر حکمت عملی اور داخلی اتحاد بھی اتنے ہی ضروری ہوتے ہیں۔ اگر کسی ملک کے اندر دشمن کے لیے راستے پیدا ہو جائیں تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ایران سمیت ہر ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی داخلی کمزوریوں کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے خلا کو پْر کرے۔
دوسری طرف عالمی سیاست بھی ایک پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کر رہی ہیں جبکہ کئی ممالک محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کچھ ریاستیں براہ راست مداخلت سے گریز کر رہی ہیں اور بعض تماشائی کا کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ بین الاقوامی ادارے جن سے انصاف اور توازن کی توقع کی جاتی ہے، وہ بھی اکثر طاقت کے توازن کے سامنے کمزور نظر آتے ہیں۔
ان حالات میں مسلم دنیا اور خصوصاً پاکستان کے لیے صورتحال نہایت حساس ہے۔ پاکستان ایک طرف ایران کا ہمسایہ اور برادر ملک ہے جبکہ دوسری طرف اس کے معاشی مفادات خلیجی ممالک کے ساتھ بھی گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کام کر رہے ہیں اور ان کی جانب سے بھیجا جانے والا زرِ مبادلہ پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ایسے نازک حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہایت محتاط اور دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کرے۔ خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اور پھونک پھونک کر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ خارجہ پالیسی میں جذبات کے بجائے قومی مفاد کو اولین ترجیح دینا ہی کسی بھی ریاست کی کامیاب حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خطے میں بدلتے ہوئے حالات کا گہری نظر سے جائزہ لے اور ایسی پالیسی اپنائے جو نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے معاون ہو بلکہ ملک کے معاشی، سفارتی اور قومی مفادات کا بھی تحفظ کر سکے۔ اس پیچیدہ صورتحال میں جلد بازی یا غیر محتاط فیصلے مستقبل میں مشکلات پیدا کر سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کو انتہائی تدبر کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
جدید دور کی جنگیں بھی پہلے جیسی نہیں رہیں۔ اب صرف میدانِ جنگ میں فوجی قوت ہی فیصلہ کن عنصر نہیں رہی بلکہ ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور الیکٹرانک نظام بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ میزائل، ڈرون، سیٹلائٹ اور ڈیجیٹل مواصلاتی نظام نے جنگ کی نوعیت کو مکمل طور پر بدل دیا ہے اور عالمی طاقت کے توازن کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔
ایسے حالات میں عالمی برادری کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکے۔ خصوصاً ایٹمی ہتھیاروں کے اس دور میں کسی بڑی جنگ کا مطلب صرف ایک خطے کی تباہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ عالمی قیادت عقل و دور اندیشی کا مظاہرہ کرے۔ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہی وہ راستے ہیں جو دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتے ہیں۔ اگر طاقت کے استعمال کو ہی مسئلے کا حل سمجھ لیا جائے تو تاریخ کا پہیہ ایک ایسے راستے پر چل پڑے گا جہاں سے واپسی شاید ممکن نہ ہو۔
دنیا کو اس وقت تصادم نہیں بلکہ سمجھداری کی ضرورت ہے۔ قوموں کے درمیان اختلافات ہمیشہ رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ انہیں کس طریقے سے حل کیا جاتا ہے۔ اگر عقل و دانش کو ترجیح دی جائے تو امن کا راستہ نکل سکتا ہے، ورنہ جنگ کی آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔