محمد نسیم رنزوریار
قارئین کرام! پاک افغان تعلقات کی تاریخ ہمیشہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں یہ تلخی ایک ایسی نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں سفارت کاری کے بجائے بارود کی زبان بولی جا رہی ہے۔ جب اگست 2021 میں طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا، تو اسلام آباد میں ایک خاص طبقے کی جانب سے اسے تزویراتی فتح قرار دیا گیا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہ خوش فہمی جلد ہی ایک ڈراؤنے خواب میں بدلنے والی تھی۔ پاکستان کا بنیادی گلہ یہ ہے کہ افغان سرزمین اب بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے، جہاں سے سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اسلام آباد میں امام بارگاہ پر حالیہ بزدلانہ حملے کے بعد پاکستان کا پانچ مختلف مقامات پر فضائی کارروائی کرنا اس غصے کا اظہار تھا، لیکن ان کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والا جانی نقصان اور عام شہریوں کی ہلاکتوں نے نفرت کی خلیج کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان "اعتماد کا فقدان" اب ایک ایسی دیوار بن چکا ہے جسے گرانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔اس سیاسی اور عسکری کھینچا تانی کا سب سے دردناک پہلو وہ عام انسان، تاجر اور دیہاڑی دار مزدور ہے جس کی زندگی ان سرحدوں سے جڑی ہے۔ ماضی میں قبائلی روایات اور نرم سرحدی پالیسی کے تحت لوگ آسانی سے اِدھر اْدھر آ جا سکتے تھے، لیکن اب پاسپورٹ اور ویزا کی سخت شرائط نے برسوں سے قائم رشتہ داریوں اور کاروبار کو مفلوج کر دیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جہاں قانونی آمد و رفت پر قدغن لگائی گئی، وہاں انسانی سمگلنگ کے غیر قانونی راستے بند نہ ہو سکے۔ جب ایک جائز طریقے سے سفر کرنے والا تاجر سرحد پر ہفتوں ذلیل و خوار ہوتا ہے، تو وہ معاشی طور پر تباہ ہو جاتا ہے، جس کا براہ راست اثر دونوں ممالک کی منڈیوں پر پڑ رہا ہے۔ ٹرانزٹ ٹریڈ میں رکاوٹیں اور بارڈر کا بار بار بند ہونا صرف معاشی نقصان نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے، جس نے لاکھوں خاندانوں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ہے۔
پاک افغان مسئلے کی جڑیں ڈیورنڈ لائن کے تنازع اور دونوں ریاستوں کے متضاد سیکیورٹی مفادات میں پیوست ہیں۔ جب تک کابل اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتا اور جب تک اسلام آباد افغان سرحد کو محض ایک سیکیورٹی زون کے بجائے معاشی راہداری کے طور پر نہیں دیکھتا، یہ حالات بہتر ہونا ناممکن ہیں۔ حل صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے ایک "گرینڈ ڈائیلاگ" کا آغاز کریں۔ بارڈر مینجمنٹ کو جدید اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر استوار کرنا ہوگا تاکہ پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کو عزت دی جائے اور سمگلنگ کے بجائے قانونی تجارت کو فروغ ملے۔ اگر یہ تلخیاں اسی طرح برقرار رہیں تو تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں صرف قبرستان آباد کرتی ہیں، خوشحالی صرف امن کے راستے سے ہی آتی
ہے۔