جہلم میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس میں بہو کو موبائل فون رکھنے کے الزام میں برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس واقعہ میں متاثرہ خاتون کو سرالیوں نے نہ صرف برہنہ کیا بلکہ گرم لوہے کے راڈ اور ڈنڈوں سے بھی تشدد کیا، جس سے وہ بے ہوش ہو گئی۔ اس کے علاوہ، اس کے شوہر نے بھی اس کے کان کھینچے۔ ساس، جیٹھ، جیٹھانی اور دیگر افراد نے مل کر اس پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے۔ یہ واقعہ پنجاب کے ضلع جہلم میں پیش آیا جہاں خواتین کے خلاف تشدد کے اس دلخراش واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی، حنا پرویز بٹ، نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او جہلم سے واقعے کی مکمل تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ سرالیوں نے اس پر ظلم کے پہاڑ توڑے، اور اس کا جسم گرم لوہے کے راڈ اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنا کر اسے بے ہوش کر دیا۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ اس واقعہ کے بعد اسے طبی، قانونی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔
چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی، حنا پرویز بٹ نے واضح کیا ہے کہ خواتین پر تشدد کے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ظالم عناصر کو عبرتناک سزا دی جائے گی اور متاثرہ خواتین کو مکمل قانونی، طبی اور نفسیاتی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔حنا پرویز بٹ نے زور دیا کہ خواتین کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کو قانون کے حوالے کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق، زیرو ٹالرنس پالیسی جاری ہے تاکہ خواتین کو محفوظ اور پرامن پنجاب فراہم کیا جا سکے۔