ایچ آئی وی کی روک تھام کیلئے کتنا فنڈ ملا؟ مصطفیٰ کمال نے بتا دیا

ایچ آئی وی کی روک تھام کیلئے کتنا فنڈ ملا؟ مصطفیٰ کمال نے بتا دیا

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے گلوبل فنڈ پاکستان کو امداد فراہم کرتا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2024 سے 2026 کے لیے مختص فنڈ 65 ملین ڈالر ہے، جو جون 2026 میں مکمل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق اس رقم میں سے حکومت پاکستان کو صرف 3.9 ملین ڈالر دیے گئے جبکہ باقی رقم مختلف اداروں اور این جی اوز کے ذریعے نئی زندگی اور یو این ڈی پی کو فراہم کی گئی ہے، جس کے باعث 93 فیصد فنڈ حکومت کے براہِ راست کنٹرول میں نہیں۔وفاقی وزیر کے مطابق 61.1 ملین ڈالر کے استعمال پر براہِ راست حکومتی آڈٹ ممکن نہیں کیونکہ یہ رقوم غیر سرکاری اداروں کے پاس ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 2020 تک ملک بھر میں 49 اے آر ٹی سینٹرز فعال تھے، جہاں 37 ہزار افراد کی اسکریننگ کی گئی جن میں 6 ہزار 910 کیسز مثبت آئے۔ جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 97 اے آر ٹی سینٹرز تک پہنچ گئی، جہاں 3 لاکھ 74 ہزار 126 ٹیسٹ کیے گئے اور 14 ہزار 182 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے 84 ہزار رجسٹرڈ کیسز موجود ہیں، جن میں سے 61 ہزار افراد علاج کروا رہے ہیں جبکہ 24 ہزار مریض لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں، اور باقاعدہ علاج سے وائرس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، تاہم مریضوں کو عمر بھر دوا لینا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں ایسی ادویات بھی متوقع ہیں جن کی خوراک سال یا چھ ماہ میں ایک بار دینا کافی ہوگا۔پریس کانفرنس کے اختتام پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی سفارتی کوششوں سے بڑی جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے، اور پاکستان کو اس کے مثبت کردار پر عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔