وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی خیریت سے ہیں اور مکمل طور پر ٹھیک ہیں۔
انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے جناح اسپتال نہ دینے کے معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے اٹھارہویں ترمیم کے بعد بھی سندھ حکومت کے ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر بنانے کی کوشش کی، اور شہر یتیم نہیں ہے۔ ان کے مطابق وفاق نے اپنے حصے کا قرض ادا کر دیا ہے اور پاکستان اس شہر کی بدولت چل رہا ہے۔مصطفیٰ کمال نے 27 ویں آئینی ترمیم کی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم صرف کراچی تک محدود نہیں، بلکہ اندرونِ سندھ کے لیے بھی اختیارات حاصل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 26 ویں آئینی ترمیم میں بھی یہی مطالبہ تھا، مگر پیپلز پارٹی نے اتفاق نہیں کیا۔وفاقی وزیر نے کراچی میں بدحالی اور جرائم کی موجودہ صورتحال کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں بچے گٹر میں گر کر ہلاک ہو رہے ہیں اور موبائل چھیننے والے ڈاکو شہریوں کی جان لے رہے ہیں، جبکہ چھوٹے کاموں کے آغاز پر بھی وزیرِ اعلیٰ نے روک لگوا دی۔
انہوں نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو کے آئین کے تحت اگر صوبہ مسائل حل کرنے میں ناکام ہو تو وفاق مداخلت کر سکتا ہے، اور وفاق نے شہر کے امن کو قائم رکھنے کے لیے بڑی قربانی دی ہے۔مزید برآں، وفاقی وزیر نے نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے نپاہ وائرس پر جاری الرٹ کا ذکر کرتے ہوئے عوام سے احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی اور یقین دلایا کہ پاکستان ابھی نپاہ وائرس سے محفوظ ہے۔