مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشے کے پیش نظر بھارت نے 60 دن کے لیے خام تیل کی سپلائی محفوظ کر لی ہے۔
بھارتی وزارتِ تیل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے اگلے 60 دنوں کے لیے خام تیل کی فراہمی یقینی بنا لی ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ سے ترسیل میں کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کے باوجود ملک میں ایندھن کی مستحکم فراہمی برقرار رکھی جا سکے۔بھارت دنیا کا تیسرا بڑا تیل صارف اور درآمد کنندہ ہے اور اپنی مجموعی تیل درآمدات کا تقریباً 40 فیصد مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث خطے میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں اور تقریباً 60 دن کا ذخیرہ دستیاب ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایندھن کی قلت سے متعلق افواہوں پر توجہ نہ دیں۔
دوسری جانب قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے مختلف شہروں میں پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر نظم و ضبط برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق شہریوں کی بڑی تعداد ممکنہ قلت کے خدشے کے باعث گاڑیوں کی ٹینکیاں بھروا رہی ہے جس سے سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم فی الحال پیٹرول پمپس پر رش اور کشیدگی برقرار ہے۔