بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی، ہزاروں بچے متاثر، ہسپتال بھر گئے

ہر روز سینکڑوں بچوں کو انتہائی متعدی بیماری کی علامات کے ساتھ داخل کیا جا رہا ہے
 ایک بڑی وجہ اس کی قومی سطح پر چلائی جانے والی ویکسیشنین مہم میں پیدا ہونے والا تعطل ہے
 تمام بیڈ بھر چکے ہیں اور ہمیں مریضوں کو راہداریوں میں بھی رکھنا پڑ رہا ہے: ڈاکٹر عارفل بشار 
ڈھاکہ(آئی این پی ) بنگلہ دیش میں خسرہ کی ایک غیرمعمولی وبا نے ہسپتالوں کو مفلوج کر دیا ہے، جہاں ہر روز سینکڑوں بچوں کو اس انتہائی متعدی بیماری کی علامات کے ساتھ داخل کیا جا رہا ہے اور طبی عملہ انہیں الگ رکھنے اور علاج کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش اس وقت اپنی حالیہ تاریخ کی سب سے مہلک خسرہ وبا سے نبرد آزما ہے، اس کی ایک بڑی وجہ اس کی قومی سطح پر چلائی جانے والی ویکسیشنین مہم میں پیدا ہونے والا تعطل ہے جو 25-2024 کے دوران چلائی جانی چاہئے تھی لیکن طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج اور سیاسی ہلچل کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں سابق حکومت کا خاتمہ ہوا۔ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے مطابق 15 مارچ کے بعد سے خسرہ کے کیسز اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، 32 ہزار 300 سے زائد مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ کم از کم 259 بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔وبا کے آغاز سے اب تک روزانہ تقریبا ایک ہزار افراد ہسپتالوں میں داخل ہو رہے ہیں، جن میں سے نصف دارالحکومت ڈھاکہ میں ہیں، جہاں دیگر علاقوں سے بھی مریضوں کو منتقل کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں متعدی بیماریوں کے خصوصی علاج کی سہولتیں موجود نہیں۔موہاخلی انفیکشیئس ڈیزیز یسپتال میں وارڈز اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ مریضوں سے بھر چکے ہیں، ہسپتال کے سینئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر عارفل بشار کے مطابق تمام بیڈ بھر چکے ہیں اور ہمیں مریضوں کو راہداریوں میں بھی رکھنا پڑ رہا ہے