کشیدگی کے باعث 23 اپریل کو بھارت نے طیارہ بردار جہاز آئی این ایس وکرانت بحیرہ عرب میں تعینات کیا تھا

پاک بحریہ کی موثر حکمت عملی  بحیرہ عرب میں بھارتی جہاز پسپا
 پاک نیوی کی جانب سیبحیرہ عرب میں مسلسل پٹرولنگ نے انڈین بحریہ کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ،بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پر تیسرے روز بھی فائرنگ ،پاک فوج کا موثرجواب، دشمن کی بندوقیں خاموش ہوگئیں 
 اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )پاک بحریہ کی موٓثر اینٹی ایکسس ایریا ڈینائل (A2/AD) حکمت عملی کے باعث بھارتی بحریہ کا جدید ترین طیارہ بردار جہاز آئی این ایس وکرانت محض چند روز کی تعیناتی کے بعد بحیرہ عرب سے پسپا ہو کر بھارتی نیول بیس کاروار واپس پہنچ گیا۔ تازہ ترین سیٹلائٹ ا نٹیلی جنس کے مطابق 26 اپریل 2025 کو لی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آئی این ایس وکرانت ایک بار پھر کاروار بندرگاہ پر لنگر انداز ہے، اس سے قبل 23 اپریل کو جاری کی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں اسے بحیرہ عرب کے کھلے پانیوں کی جانب بڑھتے دیکھا گیا تھا،بھارتی بحریہ نے اس طیارہ بردار جہاز کو پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پیش نظر 23 اپریل کو شمالی بحیرہ عرب میں تعینات کیا تھا،بھارتی میڈیا نے اس تعیناتی کو ایک "بڑا قدم" قرار دیا تھا اور سوشل میڈیا پر بھی اسے لے کر خوب شور مچایا گیا تاہم ماہرین کے مطابق طیارہ بردار جہاز کو محض چند روز کے لیے کھلے سمندر میں تعینات کرنا غیر معمولی ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاک بحریہ کی موجودگی اور مسلسل پٹرولنگ نے بھارتی بحریہ کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارتی افواج کے درمیان مسلسل تیسری رات فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔بھارت کی جانب سے کی گئی چھوٹے ہتھیاروں سے بلااشتعال فائرنگ کا پاک فوج نے موثر جواب دیا جس کے بعد بھارتی بندوقیں خاموش ہوگئیں۔اقوام متحدہ کا کہناہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور بامعنی بات چیت سے پرامن طریقے سے معاملات کو حل کیا جائے۔