وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا کو افغانستان سے آزادانہ ڈیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
خواجہ آصف نے وضاحت کی کہ افغانستان سے بات چیت کا اختیار آئینی اور قانونی طور پر وفاق کے پاس ہے، اور اگر وزیرِ اعلیٰ یا گورنر خیبر پختونخوا آزادانہ طور پر افغانستان سے کسی معاہدے یا ڈیل کی کوشش کرتے ہیں، تو وفاق انہیں اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات آئین کی خلاف ورزی ہوں گے کیونکہ دفاع اور خارجہ امور کا معاملہ وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ وزیرِ اعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا کو اپنی رائے پیش کرنے کا حق ہے، اور اگر وہ چاہیں تو وفاقی حکومت سے ملاقات کرکے اپنے خیالات اور تجاویز دے سکتے ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آئین میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ خارجہ پالیسی اور دفاعی امور وفاقی سطح پر طے ہوتے ہیں اور کسی بھی صوبے کو ان معاملات میں آزادانہ فیصلے کی اجازت نہیں ہے۔