اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما زرتاج گل کے خلاف درج مقدمات پر سماعت ہوئی۔
کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی کی سربراہی میں کی گئی۔دوران سماعت، جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر زرتاج گل آج عدالت میں پیش ہوتیں تو ان کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا جاتا۔ جج نے مزید کہا کہ زرتاج گل آج عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئیں؟ ان کے وارنٹ گرفتاری نکالنے کا حکم دیا جائے۔زرتاج گل کے وکیل صفائی نے جج کے سامنے درخواست کی کہ زرتاج گل کو آج حاضری سے استثنیٰ دیا جائے اور وہ اگلی سماعت پر عدالت میں پیش ہوں گی۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ ان کی موکلہ کسی ضروری وجہ سے پیش نہیں ہو سکیں۔
اس پر عدالت نے کیس کی سماعت 8 مئی تک ملتوی کر دی اور حکم دیا کہ اگر زرتاج گل آئندہ سماعت پر پیش نہ ہوں، تو ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ زرتاج گل اور دیگر افراد کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں توڑ پھوڑ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمات درج ہیں۔ یہ مقدمات پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں کے دوران درج کیے گئے تھے، جس میں زرتاج گل پر الزام ہے کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی اور نظم و ضبط کو خراب کیا۔