راولپنڈی میں انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے وزیرِاعظم شہباز شریف پر سخت تنقید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کہتے ہیں کہ پہلگام واقعے کی تحقیقات کرائی جائے، لیکن یہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف ایک بزدل وزیراعظم ہیں، جو بھارت کے حوالے سے کوئی سخت موقف نہیں لے رہے۔عمر ایوب خان نے بھارت کو دو ٹوک پیغام دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت حملہ کرے گا تو پاکستان کو زمینی اور فضائی حملہ کرنے کی تیاری رکھنی چاہیے۔ تاہم، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کٹھ پتلی حکومت اس معاملے میں کوئی سخت موقف نہیں لے رہی اور ان کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار حملہ کرنے کی بات کرتی ہے جبکہ پاکستان کی حکومت اس کا جواب دینے کی بجائے ہتھیار ڈالنے کی بات کرتی ہے۔ عمر ایوب نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے اور ایسے حالات میں ہمیں اپنی طاقت کو ثابت کرنا چاہیے۔اپنی گفتگو میں عمر ایوب خان نے مزید کہا کہ شہباز شریف نے امریکا کے کہنے پر یوکرائن کو گولہ بارود فروخت کیا، جبکہ زرداری نے سندھ کے پانی کو فروخت کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں، اور ملک میں افراتفری کی صورتحال ہے۔
انہوں نے ملک میں زرِمبادلہ کی کمی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ روزانہ ساڑھے پانچ سو ارب روپے کی ہو رہی ہے۔عمر ایوب خان نے کہا کہ وہ ایک دن میں 25 مقدمات میں ضمانتیں کرواتے ہیں، اور ان پر قومی یکجہتی کے خلاف مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، اور اس بارے میں عدالتوں میں درخواستیں زیر سماعت ہیں۔عمر ایوب خان نے توشہ خانہ ٹو کیس کے بارے میں بھی کہا کہ اس کی سماعت آج ملتوی کر دی گئی ہے۔ وزیر آباد کیس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی درخواست پر ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کو ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، اور جعفر ایکسپریس سانحہ کو انٹیلیجنس کی ناکامی قرار دیا۔