انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، فواد چوہدری نے کہا کہ بھارت آبی جارحیت کر رہا ہے جس کا حکومت نے جواب نہیں دیا۔
انہوں نے تجویز دی کہ ہمیں آبی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ کو شکایت کرنی چاہیے۔ فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ہر مسئلے کا حل بندوق نہیں ہے، اور جو لوگ احتجاج کرتے ہیں، ان سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومت چل رہی ہے، اور ملک مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف پانچویں بار وزیراعظم بننے جا رہے ہیں، حالانکہ حکومت کی کارکردگی بہتر نہیں ہے اور ان کی حمایت اسٹبلشمنٹ کی ہے، پھر بھی حکومت نہیں چل رہی۔اسد عمر نے بھی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بجٹ پیش کرنے والے حکومتی افراد کی کارکردگی پر سوال اٹھانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں شہباز شریف تاریخ میں سب سے زیادہ بجٹ پیش کرنے والے ہیں، مگر معیشت کی رفتار آبادی سے زیادہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرمایہ کاری 50 سال کی کم ترین سطح پر ہے، اور اس وقت ملک میں دہشت گردی کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اسد عمر نے الزام لگایا کہ موجودہ بجٹ آئی ایم ایف کا ہوگا، اور حکومت 1500 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاستدانوں کا کام عدالتیں نہیں، اور انصاف کے نظام کو آزاد رہنا چاہیے۔
اسد عمر نے عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کے اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرناک ہیں، اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے فیصلے ایمانداری سے کرے۔دریں اثنا، انسداد دہشت گردی عدالت میں 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات کی سماعت ہوئی، جس میں پی ٹی آئی کی رہنما علیمہ خان، عظمیٰ خان، اسد عمر، فواد چوہدری اور دیگر پیش ہوئے۔ عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانت 9 جولائی تک منظور کرتے ہوئے، اگلی سماعت پر دلائل طلب کر لیے ہیں۔