سندھ طاس معاہدے کی منسوخی: خطے میں پانی کی جنگ کا پیش خیمہ؟

 عابد گوندل
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا حالیہ اعلان خطے میں ایک نئے، نہایت خطرناک اور مہلک بحران کی بنیاد رکھ چکا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی بقاء￿  کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ عالمی قوانین، معاہدوں اور مہذب اقوام کے درمیان طے شدہ اصولوں کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ پنجاب اسمبلی کی قرارداد، جس میں پانی پر پابندی کو اعلانِ جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اب محض ایک انتباہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت بن چکی ہے۔سندھ طاس معاہدہ 1960ء￿  میں عالمی ضامنوں کی نگرانی میں طے پایا تھا، جس نے برصغیر کے دو ازلی دشمنوں — بھارت اور پاکستان — کے درمیان پانی کی تقسیم کا منصفانہ راستہ نکالا تھا۔ یہ معاہدہ خود بھارتی قیادت کی درخواست پر وجود میں آیا تاکہ دونوں ممالک میں پانی پر جنگ نہ ہو۔ لیکن آج بھارت کی ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند قیادت نے محض سیاسی انتقام اور پاکستان دشمنی کے تحت اس بین الاقوامی معاہدے کو روند ڈالا ہے۔یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کی زرعی معیشت کا دار و مدار دریائے سندھ، چناب اور جہلم پر ہے۔ ان دریاؤں کا بہاؤ اگر روکا گیا تو پاکستان قحط سالی، معاشی تباہی اور سماجی بدامنی کے ایک نہ ختم ہونے والے بھنور میں پھنس جائے گا۔ بھارت کا یہ قدم درحقیقت پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے — جیسا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے برملا فرمایا تھا کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے" اور کشمیر کے ساتھ ساتھ ہمارے دریاؤں پر بھارت کی دست درازی ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے۔بھارت کی اس جارحیت پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی عدالتِ انصاف اور دیگر بین الاقوامی ادارے جو انسانی حقوق اور ماحولیاتی انصاف کے علمبردار بنے پھرتے ہیں، اس کھلی زیادتی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جب ایک ملک دوسرے ملک کے پانیوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے، تو یہ معاملہ محض دو طرفہ تنازعہ نہیں رہتا بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔پاکستان کو اس صورتحال میں دو محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف دنیا کو باور کرانا ہوگا کہ بھارت کی آبی دہشت گردی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے؛ دوسری طرف داخلی سطح پر اپنی آبی خود کفالت کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔ کالاباغ ڈیم سمیت نئے آبی ذخائر کی تعمیر، واٹر مینجمنٹ میں انقلابی اصلاحات، اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔پاکستان کی قیادت کو چاہیے کہ وہ سفارتی سطح پر ایک ہنگامی مہم شروع کرے۔ عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ دائر کیا جائے، اقوامِ متحدہ میں قرارداد پیش کی جائے اور بین الاقوامی میڈیا میں بھرپور مہم چلائی جائے۔ بھارت کی یہ حرکت ایک ایسا عمل ہے جو اگر آج روکا نہ گیا تو کل خطے کو پانی کی باقاعدہ جنگ میں دھکیل دے گا، جس کے نتائج نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔یہ لمحہ قوم کے لیے بیداری کا لمحہ ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ پانی ہماری زندگی ہے، اور اگر کوئی ہماری زندگی چھیننے کی کوشش کرے تو یہ براہ راست جنگ کے مترادف ہے۔ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی منسوخی اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ وہ اب نہ صرف سرحدوں پر بلکہ قدرتی وسائل پر بھی جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے۔پاکستان 
ایک پرامن ملک ہے لیکن اپنی بقاء￿ ، اپنی زمین اور اپنے دریاؤں کے دفاع کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہمیں اجتماعی شعور، قومی یکجہتی اور مضبوط قیادت کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔پانی کی جنگ کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم خود کو اس جنگ کے لیے تیار کریں — سفارتی محاذ سے لے کر تعمیراتی اور فکری محاذ تک۔ کیونکہ پانی کی جنگ محض زمینی جنگ نہیں ہو گی؛ یہ ہماری نسلوں کی بقاء￿  اور فنا کا معرکہ ہو گا۔