مستقل جنگ بندی معاہدے کے امکانات

 امجد علی
مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کر رہی ہے کہ جنگیں صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ سفارت کاری، معیشت اور عالمی طاقتوں کے مفادات کے پیچیدہ جال میں لڑی جاتی ہیں۔ ایران کے گرد ابھرتا ہوا بحران بظاہر ایک علاقائی تنازعہ دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ عالمی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی نئی صف بندی کا حصہ ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، بلکہ ایک تازہ امید کا جھونکہ ہے، تاہم زمینی حقائق اور فریقین کے درمیان عدم اعتماد اس عمل کو مسلسل تعطل کا شکار کیے ہوئے ہیں۔ مذاکرات کے مختلف ادوار جاری ہیں، لیکن ہر پیش رفت کے ساتھ نئی شرائط اور خدشات جنم لے رہے ہیں، جو مستقل حل کا امکان فی الحال دور لگتا ہے۔
اس سارے منظرنامے میں پاکستان نجات دہندہ کے طور پر ابھرا ہے اس کی مسلسل سفارت کاری کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ عسکری قیادت کی رہنمائی میں اسلام آباد ایک ایسے ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے جس پر  فریقین کا اعتماد کسی حد تک ابھی موجود ہے۔ پاکستانی قیادت کی کوشش ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کر کے مذاکرات کو ایک قابل عمل سمت دے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا کردار بہت غیر معمولی اور بے بیمثال ہے مگر اس کے باوجود اس کی حیثیت ایک سہولت کار سے زیادہ نہیں۔ اصل فیصلے واشنگٹن، تہران اور دیگر براہ راست فریقین کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی یہ کوششیں اسے کے کردار کو ایک غیر جانبدار اور ذمہ دار علاقائی کھلاڑی کے طور پر بلند کرتی ہیں، جو نہ صرف اپنے مفادات بلکہ خطے کے استحکام کو بھی مدنظر رکھ کر آگے بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر محترم ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی بظاہر متضاد مگر دراصل ایک سوچے سمجھے دباؤ، پریشر اور مفاد پر مبنی کسٹمائزڈ پالیسی ( customized policy) کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ ایک طرف وہ خود کو امن کا داعی اور ممکنہ ‘‘امن کا سفیر’’ کے طور پر عالمی ایوارڈ کے لیے بھی پیش کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف سخت دھمکی آمیز بیانات، حربی اور فوجی دباو اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی جیسے اقدامات کی دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔ یہ طرز عمل دراصل ‘‘coercive diplomacy’’ کی ایک واضح مثال ہے، جس میں مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے پریشر کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ایران کو رعایت دینے اور شرائط ماننے پر مجبور کرنا اور ساتھ ہی چین جیسے بڑے خریدار کو بھی ایک دائرے میں محدود رکھنا ہے۔ ابتک کے کھیل سے سب کچھ واضع ہو چکا ہے دھند چھٹ چکی ہے۔ الزامات جو بھی جتنے بھی ہوں ایران کی مخالفت تیل کے وسائل پر قبضے کے علاؤہ کچھ نہیں اس طرح کسی حد تک یہ سب جھگڑے زن زر زمین کے ہی ٹھہرے۔
اعصاب کی جنگ میں آبنائے ہرمز اس پورے بحران کا سب سے حساس اور فیصلہ کن پہلو ہے۔ دنیا کی ایک بڑی تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے، اس لیے اس کی بندش یا حتیٰ کہ جزوی رکاوٹ بھی عالمی معیشت کو ہلا سکتی ہے۔ امریکہ کے لیے اس راستے پر کنٹرول نہ صرف ایران کی معیشت کو دباؤ میں لانے کا ذریعہ ہے بلکہ چین جیسے بڑے حریف کو بھی متاثر کرنے کا ایک موثر ہتھیار ہے۔ چین، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، اس صورتحال سے براہ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ اگرچہ بیجنگ نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر تیل کے ذخائر جمع کر رکھے ہیں اور متبادل سپلائی لائنز پر کام جاری ہے، لیکن طویل المدتی بحران اس کی معاشی رفتار کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس ساری صورتحال میں روس ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے جو بظاہر خاموش مگر عملی طور پر فائدے میں ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ روسی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو رہا ہے، اور وہ چین جیسے ممالک کو متبادل سپلائی فراہم کر کے اپنے اثر و رسوخ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ یوں یہ تنازعہ محض ایک علاقائی جنگ نہیں بلکہ ایک وسیع تر جیوپولیٹیکل کھیل بن چکا ہے، جہاں ہر طاقت اپنے مفادات کے مطابق چالیں چل رہی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان عوامل کے باعث عالمی معیشت سرد بازاری اور انفلیشن جیسے دباؤ اور پینک میں ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال کسی فوری اور مستقل جنگ بندی کی طرف اشارہ تو نہیں کرتی، بلکہ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ محدود نوعیت کی کشیدگی اور مذاکرات ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے۔ اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں اور کچھ مثبت اشارے بھی مل رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق، باہمی بداعتمادی اور عالمی طاقتوں کے مفادات اس بحران کو جلد ختم ہونے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ جنگ ختم ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہو گا کہ یہ کشیدگی کس حد تک پھیلتی ہے اور عالمی معیشت و سیاست کو کس نئی سمت میں لے جاتی ہے۔ 
 جنگ کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورت حال یقیناً پہلے جیسی نہیں رہے گی بلکہ ایک نئی جغرافیائی و سیاسی ترتیب سامنے آئے گی، جس میں طاقت کا توازن جزوی طور پر تبدیل ہو چکا ہوگا۔ امریکہ کی جانب سے ممکنہ بلاکیج یا دباؤ کی حکمت عملی چین کے لیے وقتی طور پر ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتی ہے، خاص طور پر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے، تاہم چین کی متبادل ذرائع، چائنہ کی مدد کی روسی یقین دہانی اور ذخیرہ اندوزی کی پالیسی اسے مکمل بحران سے محفوظ رکھے گی مگر آنے والے دنوں میں مشکلات آ سکتی ہیں۔ اصل مسئلہ ان بڑی طاقتوں کی کشمکش کا پیدا کردہ بوجھ ہے جو غریب اور کمزور معیشتوں کے شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے، جہاں اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر معیشت دباؤ کا شکار ہے، بین الاقوامی پروازوں کی بندش، بحری نقل و حمل میں تعطل، ادویات اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل میں رکاوٹیں روزمرہ زندگی کو مفلوج کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ اگر فوری طور پر مستقل جنگ بندی ہو بھی جائے، تب بھی کاروباری اور تجارتی نظام کو معمول پر آنے میں کئی ماہ درکار ہوں گے۔ یوں دیکھا جائے تو ایران، امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ریاستوں کے جانی و مالی نقصانات کے علاوہ عالمی منڈیوں اور معیشت کو جو دھچکا پہنچ چکا ہے، اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ بحرحال کیونکہ دونوں فریقین کی سفارت کاری کی تائید واضع پیغام رکھتی ہے کہ جنگی بندی ہو جائے گی مکمل یا جزوی، وقتی یا مستقل۔ جنگ بندی معاہدہ دنیا کے ساتھ ساتھ ایران کے لیے خوش آئند ہے کہ عائد پابندیوں کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا ساتھ ہی امریکہ کا اس جنگ میں براہ راست شامل ہونے، اس وجہ سے امریکہ کے بڑھتے جنگی نقصان, ٹرمپ کی دھمکیوں اور پریشر ٹیکٹسز (Tactics) کے ذریعے اپنے مالیاتی مفاد کے حصول کی عادت کو مدنظر رکھتے ہوئے امید واثق ہے کہ مستقل جنگ بندی کا امکان روشن ہے انشاء￿ اللہ۔ جنگ بندی جنگی جنونیوں کی نہیں انسانیت کے جم غفیر کی امید، خواہش اور دعاء￿  ہے۔ لہذا زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔ انشاء￿ اللہ۔۔ آخر پر پوری مسلم  کمیونٹی کی مسلسل رسوائی کرنے والے فرعون کی ناک کو زخمی کرنے پر ہم ایران کے شہر گذار ہیں۔ ویلڈن ایران۔۔۔۔ ایرانی پالیسی سازوں اور پس پردہ مشیروں کا شکریہ کہ ان کے مضبوط ارادوں اور ڈو اینڈ ڈائی پالیسی نے نا ممکن کو ممکن کر دکھایا سپر پاور کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا مسلم امہ کا سر فخر سے بلند کر دیا۔۔۔۔
ویلڈن۔۔ ایران نے اقبال کے الفاظ کو حقیقت بخش دی۔۔ 

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے ریزہ ریزہ

 ترکی، چائنہ، ایران اور پاکستان کا اتحاد اور مشترکہ کاوشیں زندہ باد … افواج پاکستان زندہ باد