ایران جنگ کے خلیجی خطے پر اثرات

 امجد علی
ٹیبل ٹاک کے ذریعے مقاصد کے حصول میں ناکامی کے بعد، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دھوکہ دہی سے گھات لگا کر ایران پر مسلط کی گئی اس بلاجواز جنگ کو اب بیس روز گزر چکے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی معاشی و عسکری طاقت امریکہ کھڑا ہے، اور دوسری جانب اسرائیل، جو ٹیکنالوجی، بینکاری اور عالمی مالیاتی نظام میں اس قدر اثرورسوخ رکھتا ہے کہ امریکی کانگریس کے فیصلوں تک کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گویا ایک ایسا بچھو، جو اپنے اردگرد ہر خطرے کو ڈس لینے کی فطری مہارت رکھتا ہو۔
ابتدائی حملوں سے قبل غالب گمان یہی تھا کہ یہ کارروائی محض ایرانی قیادت کو منظر سے ہٹانے کے لیے مختصر اٹیک تک محدود رہے گی۔ پابندیوں میں جکڑی کمزور معیشت کے پیشِ نظر یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ ایران کھلی جنگ سے گریز کرے گا، اور یوں "رجیم چینج" کا منصوبہ چند دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی "گریٹر اسرائیل" کا تصور بھی عملی پیش رفت حاصل کر لے گا۔
امریکہ کے لیے یہ تصور بھی محال تھا کہ اسی کے عرب ریاستوں میں موجود اڈوں کو ایران ٹارگٹ کرنے کی جرات کرے گا۔ مگر سب کچھ الٹ ہونے لگا جنگ کے پہلے ہی دن ایران کی جوابی کارروائیوں نے نہ صرف حملہ آوروں بلکہ پوری دنیا کو چونکا دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، شدید نقصانات کے باوجود ایران کے پلٹ کر کیے گئے وار نے سب اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔ ہر نیا دن امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک نئی ناکامی کی داستان بن کر طلوع ہو رہا ہے ایسی ناکامی جو رفتہ رفتہ شرمندگی اور رسوائی کی علامت بنتی جا رہی ہے۔
جنگ بندی کا اعلان، جس کی خواہش تو بظاہر کی جا رہی ہے، اب ان کے لیے گلے کی ہڈی بن چکا ہے نہ نگلا جا رہا ہے، نہ اگلا۔ عالمی میڈیا میں جاری مباحث سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ ایران، اپنی تمام تر معاشی اور سفارتی مشکلات اور ناقابل تلافی نقصانات  کے باوجود، جس استقامت اور جرات کے ساتھ ڈٹا ہوا ہے، وہ کسی جزوی فتح سے کم نہیں۔
اس صورت حال نے مخالف قوتوں کے اندرونی حلقوں میں بھی دباو پیدا کر دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایرانی گیس فیلڈز پر حملے اور امریکہ کی طرف سے جزیرہ خارگ کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اسی اضطراب کی عکاسی کرتی ہیں۔ جو ممکن طور پر اگلا گھمسان کا میدان ہو گا۔ ایسے میں واصف علی واصف کا قول یاد آتا ہے
"شکار اکثر جیت جاتا ہے اور شکاری مات کھا جاتا ہے، کیونکہ شکاری ذوق کی تسکین کے لیے لڑتا ہے جبکہ شکار اپنی بقا کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتا ہے۔"
آج یہی منظر نمایاں ہے، ایران بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل فیس سیونگ کی خاطر وسائل اور عمارتی ڈھانچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ساتھ ہی کوشش کی جا رہی ہے کہ خلیجی عرب ریاستوں کو اس جنگ میں الجھا دیا جائے۔ کبھی پوری دنیا کے زیر استعمال قطر کے گیس فیلڈز کو ہٹ کیا گیا تو کبھی سعودی آئل تنصیبات کو نشانہ بنا کر خطے میں دراڑیں پیدا کرنے کی سعی کی جا رہی ہے، مگر تاحال اس محاذ پر کامیابی نہیں مل سکی۔
بھاری اسلحہ میدان میں اتار کر عسکری برتری برقرار رکھ کر اپنی بلڈوزنگ شہرت کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، مگر یہ ایک ایسی جنگ بن چکی ہے جہاں فیصلہ کسی کے اختیار میں نہیں رہا۔ ہر جنگ کا انجام (ڈائلاگ، سرنڈر یا تباہی)، بہرحال اختتام ہی ہوتا ہے، اور اس جنگ کا بھی ایک دن خاتمہ ہوگا۔ تاہم موجودہ منظرنامے میں، واضح فتح کسی کے حصے میں نہ آنے کے باوجود، ایران اپنی حکمت عملی اور نظریاتی استقامت کے باعث ایک مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے۔
یہ سب کچھ یوں ہی ممکن نہیں ہوا، اس کے پس پشت ایرانی قیادت کی وہ بصیرت اور حکمتِ عملی کارفرما ہے جس نے ریاست کو مضبوط بنیادوں، واضح اصولوں اور گہری حب الوطنی سے ایسی پلائی دیوار بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان کا ایک شہسوار شہید ہوتا ہے تو دوسرا بلا تعطل اسی پرچم کو اسی قوت اور گرفت کے ساتھ تھام کر میدان کارزار میں پہلے سے بڑھ کر عزم و توانائی کے ساتھ ڈٹ جاتا ہے۔ اور جوابی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہتی ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا کے لیے یہ منظر یقیناً حیرت اور تعجب کا باعث بنا ہوا ہے اور ایسے میں اقبال کا وہ شہرہ آفاق شعر بے اختیار یاد آ جاتا ہے۔

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

نیٹو اور یورپی یونین کے کئی اہم ممالک کا اس جنگ میں براہ راست شریک ہونے سے انکار بھی بہت کچھ بیان کر رہا ہے۔ یہ دراصل امریکی پالیسیوں سے ایک محتاط مگر واضح اختلاف کی علامت ہے۔ دوسری جانب، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کرنے کا عندیہ عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین اشارہ ہے، جس نے امریکہ کی بے چینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
تمام صورتحال کا مجموعی جائزہ یہی بتاتا ہے کہ نہ تو "رجیم چینج" ممکن ہو سکا ہے، اور نہ ہی ایران کے سرنڈر کرنے کے آثار ہیں۔ اگر ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کیے جاتے تو یہ جنگ طویل ہو کر افغانستان اور ویتنام جیسے تجربات کی یاد تازہ کر سکتی ہے۔
اب سب سے اہم سوال یہی ہے کہ یہ جنگ کب ختم ہوگی؟ ایران کب تک اپنے دفاع کو برقرار رکھ سکے گا؟ خلیجی عرب ریاستیں اس صورتحال کو کس زاویے سے دیکھ رہی ہیں؟ اور چین و روس اس جنگ سے کیا فوائد یا نقصانات سمیٹ سکتے ہیں؟ ان سوالات کے سائے میں ایک ممکنہ نئی عالمی ترتیب (New World Order) کے خدشات بھی ابھر رہے ہیں۔
اگر ایران اس معرکے میں سرخرو ہوتا ہے تو خطے میں طاقت کا توازن یکسر بدل سکتا ہے، اور عرب ریاستوں کا سیاسی و سفارتی وزن متاثر ہو سکتا ہے۔ جبکہ ایران ایک نئی علاقائی قوت کے طور پر ابھرے گا  اور خطے میں اہم فیصلوں کا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہو گا۔ لیکن اگر ایران کو شکست ہوتی ہے تو اس کے اثرات بھی کم خطرناک نہیں ہوں گے، خطہ مزید عدم استحکام، انتشار اور بیرونی تسلط کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
گویا دونوں صورتوں میں سب سے بڑی ہار ان عرب ریاستوں کی ہوگی جو اپنی سلامتی کے لیے دوسروں پر انحصار کرتی رہی ہیں۔ ایک اور زاویے سے دیکھیں تو تہران، تل ابیب، حیفہ اور خلیجی ممالک میں موجود حساس تنصیبات پر ممکنہ حملے ایک بڑے انسانی المیے کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ ہزاروں جانیں اس آگ کی نذر ہو چکی ہیں، بچے، خواتین، فوجی اور عام شہری اور یہ سلسلہ ابھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔
یہ سب آخر کس لیے؟ چند طاقتور حلقوں کی انا، رعونت اور بالادستی کے جنون کے لیے؟
حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جو اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے خود کو خطرے میں ڈال دے، مگر یہاں معاملہ الٹ دکھائی دیتا ہے۔ جیسے طاقت کا معیار انسانی جانوں کی قیمت پر طے کیا جا رہا ہو۔ تاریخ ہمیں بارہا یہ سبق دیتی ائی ہے کہ ظلم اور جبر کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔
فرعون نے ایک بچے کے خوف میں کثیر معصوم جانیں قربان کیں، مگر نہ تقدیر بدلی، نہ تخت بچا نہ ہی انجام ٹلا۔
سوال یہ ہے ہم تاریخ سے سیکھنے کے لیے کب تیار ہوں گے؟
اللہ مہلت دیتا ہے، مگر ہمیشہ کے لیے نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ انسانی جان کی حرمت کو اولین ترجیح دی جائے۔ انصاف، اعتدال اور انسانیت کو طاقت کے اندھے استعمال پر فوقیت دی جائے۔
لہٰذا عالمی قیادت کو چاہیے کہ طاقت کے نشے میں فیصلے کرنے کے بجائے دانش، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ تاریخ کے المیوں کو دہرانے کے بجائے ان سے سبق حاصل کرے، اور ایسے فیصلے کرے جو امن، استحکام اور ایک متوازن عالمی نظام کی بنیاد رکھ سکیں۔ خود کو اور فیصلوں کو بدلیں گے تو نتائج امن عالم کے لیے بہتر ہونے لگیں گے۔ یقیننا آج دنیا اگر جہنم تصویر بنی ہوئی ہے تو یہ ناقص اور بدترین فیصلوں کے نتائج ہیں۔ قوی امید ہے کہ بہتر قیادت اسے درست اور دیرپا فیصلوں سے جنت بنا سکتی ہے جو بلا تفریق سبھی کی ضرورت اور پسندیدہ جگہ ہے۔۔ آیت اللہ خامنہ ای اور علی لاریجانی بشمول باقی شہیدوں کو سلام۔۔
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد